جمعرات 28 مئی 2026 - 15:36
امام حسین علیہ السلام سے توسل کے بعد حدیثِ «لولاک» کا نادر نسخہ کیسے دریافت ہوا؟

حوزہ/ امام حسین علیہ السلام کی معرفت صرف واقعۂ کربلا کے تاریخی پہلو تک محدود نہیں بلکہ آپؑ کی کرامات، اہلِ ایمان کے لئے ایمان افروز حقائق اور روحانی سرمایہ بھی ہیں۔ اسی مناسبت سے کتاب «جرعہ‌ای از کرامات امام حسین (ع)» میں نقل ہونے والا ایک اہم واقعہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں علامہ عبدالحسین امینیؒ کو توسلِ اہل بیت علیہم السلام کے نتیجے میں حدیثِ قدسی «لولاک» کا ایک نادر اور مکمل نسخہ حاصل ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام حسین علیہ السلام کی معرفت صرف واقعۂ کربلا کے تاریخی پہلو تک محدود نہیں بلکہ آپؑ کی کرامات، اہلِ ایمان کے لئے ایمان افروز حقائق اور روحانی سرمایہ بھی ہیں۔ اسی مناسبت سے کتاب «جرعہ‌ای از کرامات امام حسین (ع)» میں نقل ہونے والا ایک اہم واقعہ پیش کیا جا رہا ہے، جس میں علامہ عبدالحسین امینیؒ کو توسلِ اہل بیت علیہم السلام کے نتیجے میں حدیثِ قدسی «لولاک» کا ایک نادر اور مکمل نسخہ حاصل ہوا۔

امام حسینؑ رازِ خلقتِ کائنات

حدیثِ کساء کے ایک معروف فقرے میں خداوند متعال فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے:

"میں نے بلند آسمان، پھیلی ہوئی زمین، روشن سورج، چمکتا ہوا چاند، گردش کرتا ہوا فلک، جاری سمندر اور چلتی ہوئی کشتیوں کو ان پانچ ہستیوں کی محبت کے بغیر خلق نہیں کیا جو اس کسا کے نیچے موجود ہیں۔"

یہ حدیث واضح طور پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پنجتنِ پاک علیہم السلام، تخلیقِ کائنات کا سبب اور راز ہیں۔ اسی بنیاد پر امام حسین علیہ السلام کو بھی اسرارِ خلقت میں ایک بنیادی مقام حاصل ہے۔

آیت اللہ میر جہانی نے اپنی کتاب «الجنة العاصمہ» میں کتاب «کشف اللثالی» کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے، جس کے راوی جابر بن عبداللہ انصاری ہیں۔ اس حدیثِ قدسی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند عالم سے نقل کرتے ہیں:

"یا احمد! اگر آپ نہ ہوتے تو میں افلاک کو خلق نہ کرتا، اگر علی نہ ہوتے تو آپ کو پیدا نہ کرتا، اور اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو تم دونوں کو پیدا نہ کرتا۔"

کتاب کے مصنف صالح بن عبدالوهاب ابن عرندس، نویں صدی ہجری کے معروف عالم اور بلند پایہ شاعر شمار ہوتے ہیں۔ علامہ امینیؒ ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کی بعض قصائد کے متعلق اہلِ علم میں مشہور تھا کہ جہاں بھی وہ پڑھے جاتے، حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصی عنایت شاملِ حال ہوتی تھی۔

علامہ امینیؒ کا استنبول کا علمی سفر

حجۃ الاسلام والمسلمین سید علی اصغر امینی نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے مشہد مقدس میں علامہ امینیؒ کے استنبول کے سفر سے متعلق ایک نہایت دلچسپ واقعہ سنا۔

انہوں نے بتایا کہ جب علامہ امینیؒ پاکستان کے سفر سے واپس آئے تو مشہد کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے۔ اسی دوران گفتگو میں انہوں نے اپنی علمی تحقیقات کے سلسلے میں پیش آنے والے ایک اہم واقعے کا ذکر کیا۔

علامہ امینیؒ نے فرمایا کہ بعض افراد نے ان سے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب «الغدیر» میں بعض اہم مطالب نقل کئے ہیں لیکن ان کے تمام مصادر ذکر نہیں کئے۔ اسی وجہ سے انہوں نے ترکیہ کے شہر استنبول کا سفر کیا تاکہ وہاں کی مشہور سلیمانیہ لائبریری میں موجود نادر مخطوطات کا دوبارہ مطالعہ کر سکیں۔

لیکن وہاں ایک بڑی مشکل یہ تھی کہ لائبریری کے اوقات انتہائی محدود تھے اور اتنے مختصر وقت میں جامع تحقیق ممکن نہیں تھی۔ علامہ امینیؒ نے سفیرِ عراق اور دیگر بااثر شخصیات کے ذریعے کوشش کی کہ انہیں اضافی وقت دیا جائے، مگر کامیابی نہ ہو سکی۔

توسل اور غیبی مدد

علامہ امینیؒ فرماتے ہیں:

"ایک رات میں نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے توسل کیا اور عرض کیا: مولا! میں آپ کے لئے علمی خدمت انجام دے رہا ہوں، آپ بھی میری مدد فرمائیں۔"

انہوں نے بتایا کہ اگلی صبح دروازے پر دستک ہوئی۔ میزبان نے آ کر کہا کہ کوئی شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ جب وہ اندر آیا تو اس نے کہا:

"میں سلیمانیہ لائبریری میں ایک ذمہ داری پر فائز ہوں اور اہلِ تشیع سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں پوری طرح آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہوں۔ آپ جس کتاب کا نام بتائیں گے، میں خفیہ طور پر اس کی مائیکروفلم تیار کر کے آپ تک پہنچا دوں گا، لیکن شرط یہ ہے کہ کسی کو اس بات کا علم نہ ہو۔"

علامہ امینیؒ فرماتے ہیں کہ اس شخص نے نہایت اخلاص کے ساتھ ان کی مدد کی اور یوں انہیں بے شمار نادر کتابوں اور قلمی نسخوں تک رسائی حاصل ہو گئی۔

حدیثِ «لولاک» کا مکمل متن دریافت

علامہ امینیؒ نے اسی سفر کے دوران حدیثِ «لولاک» کا وہ مکمل متن دریافت کیا، جس میں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کا ذکر بھی شامل تھا۔

حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

یا احمد لولاک لما خلقت الأفلاک؛

ولولا علی لما خلقتک؛

ولولا فاطمه لما خلقتکما؛

ولولا الحسنان لما خلقتکم؛

"یا احمد! اگر آپ نہ ہوتے تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا؛

اگر علی نہ ہوتے تو آپ کو پیدا نہ کرتا؛

اگر فاطمہ نہ ہوتیں تو تم دونوں کو پیدا نہ کرتا؛

اور اگر حسن و حسین نہ ہوتے تو تم تینوں کو پیدا نہ کرتا۔"

علامہ امینیؒ کے مطابق یہ حدیث اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام بھی تخلیقِ کائنات کے اسرار اور مقاصدِ الٰہی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔

امام حسینؑ کی ذات؛ ہدایت و معرفت کا سرچشمہ

اس واقعے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے خالص توسل، انسان کے لئے علمی و معنوی دروازے کھول دیتا ہے۔ علامہ امینیؒ جیسے عظیم محقق کو جس نادر علمی خزانے تک رسائی حاصل ہوئی، وہ اہل بیت علیہم السلام کی عنایت اور توسل کی برکت کا روشن نمونہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha