حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ضلع کرگل (لداخ) میں محرم الحرام 1448 ہجری کے عشرہ مجالس کا باقاعدہ آغاز حوزۂ علمیہ اثنا عشریہ کرگل میں پہلی مجلسِ عزا کے انعقاد سے ہو گیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں مومنین و عزادارانِ امام حسین علیہ السلام نے شرکت کی اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے خطیب محترم نے کہا کہ محرم الحرام صرف غم و سوگ کا مہینہ نہیں بلکہ حق، عدالت، حریت اور انسانی کرامت کے احیاء کا مہینہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں اپنی اور اپنے اہلِ بیت علیہم السلام کی عظیم قربانیاں پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ایک مومن کی شان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعۂ عاشورا ہر دور کے انسان کو ظلم، ناانصافی اور استبداد کے خلاف قیام کرنے کا درس دیتا ہے۔
خطیب نے مزید کہا کہ امام حسین علیہ السلام کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں تھا بلکہ امتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصلاح، دینِ اسلام کی بقا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو زندہ کرنا تھا۔ آج بھی اگر معاشرہ حسینی تعلیمات کو اپنائے تو عدل، اخوت اور انسانی احترام کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے محرم کی مجالس اور عزاداری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماعات نئی نسل کو اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت، قربانیوں اور اعلیٰ انسانی اقدار سے روشناس کرانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مجالسِ عزا درحقیقت کربلا کے پیغام کو زندہ رکھنے اور اسے نسل در نسل منتقل کرنے کا مؤثر وسیلہ ہیں۔
اس موقع پر خطیب محترم نے امام جعفر صادق علیہ السلام کا یہ ارشاد بھی یاد دلایا:
«أَحْيُوا أَمْرَنَا، رَحِمَ اللّٰهُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَنَا»
ترجمہ: "ہمارے امر کو زندہ رکھو، اللہ اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جو ہمارے امر کو زندہ کرے۔"
مجلس کے اختتام پر نوحہ خوانی کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران منعقد ہونے والی مجالس و عزاداری کے ذریعے امام حسین علیہ السلام اور اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغامِ حق، ایثار، وفاداری اور مقاومت کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچایا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ