حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نماز ظہر عاشورا کی ادائیگی جو «عزاداری اور نماز کی ادائیگی کے درمیان عمیق تعلق» کی واضح علامت ہے، اس سال مذہبی، انتظامی اور خدماتی اداروں کی دقیق منصوبہ بندی کے ساتھ شہر مقدس قم کے ہر مقام پر وسیع تر پیمانے پر منعقد ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق حرم حضرت فاطمہ معصومہ (س) سمیت شہر کے تمام بڑے چوکوں، آمد و رفت کے راستوں اور شہری کھلیے مقامات پر مذہبی تنظیموں کی کوششوں اور سیکورٹی و امدادی اداروں کے تعاون سے بہترین انتظامات کے ساتھ بڑی نماز گاہوں میں تبدیل کر دی گئیں۔
اسی سلسلے میں ظہر عاشورا کی نمازِ جماعت حرم حضرت فاطمہ معصومہ (س) میں آیت اللہ سید محمد سعیدی، متولی آستان مقدس حضرت فاطمہ معصومہ (س) کی امامت میں زائرین، صوبائی حکام اور حوزوی شخصیات کی کثیر تعداد کے ہمراہ ادا کی گئی۔ جس میں عزاداروں کی بیسیوں صفوں نے امت اسلامی کے نظم و ہم آہنگی کا خوبصورت جلوہ پیش کیا۔
شہر کی سطح پر بھی مختلف مقامات پر عزاداری کی دستوں نے نماز ظہر کے شرعی وقت ہوتے ہی تمام جلوس و عزاداری کے پروگرامز کو روک کر ایک عظیم ہم آہنگی کے ساتھ کھلی جگہوں پر جماعت کی صفیں تشکیل دے کر ظہر عاشورا کی نماز ادا کی۔
پولیس، سپاہ پاسداران اور امدادی عملے نے بھی اس الٰہی فریضے کی ادائیگی میں سیکورٹی اور سہولت فراہم کرنے کے سلسلے میں تمام مقامات پر فعال شرکت کی اور زائرین و مجاورین کے لیے پرسکون اور محفوظ ماحول فراہم کیا۔
شہری کھلے مقامات پر اس طرح وسیع پیمانے پر شرکت اور نماز کی ادائیگی نے ایک بار پھر حسینی (ع) راستے کے تسلسل اور مکتب تشیع میں نماز کی فریضہ کی اہمیت کا پیغام دنیا بھر تک پہنچایا۔









آپ کا تبصرہ