حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے مظلومانہ شہادت کے موقع پر انہی امام کی صحیفہ زہد کے بعض اقتباسات کی شرح میں گفتگو پیش کی جا رہی ہے جو کہ امام سجاد علیہ السلام کے مکتبِ فکر میں بیداری، زہد، توحیدی بصیرت اور طاغوت کے مقابل صبر و استقامت کا آئینہ دار ہے۔
اس سلسلہ میں جامعہ حضرت معصومہ (س) کے علمی کمیٹی کے رکن حجت الاسلام والمسلمین محمد علی مروجی طبسی نے حوزہ نیوز کے ساتھ گفتگو میں امام چہارم کی سیاسی اور عبادی زندگی کے پہلوؤں کا تجزیہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا: سب سے پہلے تو حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام، ان کے فرزندان اور وفادار ساتھیوں کی دلخراش شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہیں۔
جامعہ حضرت معصومہ (س) کے علمی کمیٹی کے رکن نے مزید کہا: امامت کی تاریخ کے انتہائی مشکل دور میں انتہائی بہترین انداز سے ولایت کے سلسلے کا تسلسل اور امام سجاد علیہ السلام کا مؤمن اور مقاوم مراکز کی تربیت میں کردار بے مثال تھا۔
انہوں نے کہا: حقیقت یہ ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں گفتگو کرنا واقعہ کربلا کی عظمت کو بیان کرنے جیسا ہی دشوار ہے۔ اسی صورت میں ان کی شخصیت کی عظمت کو بیان کیا جا سکتا ہے جب ہم واقعہ عظیم کربلا کی صحیح ترجمانی کر سکیں۔ اس سلسلہ میں اپنے نکات پیش کرنے سے قبل، رہبر شہید (رہ) کے اس نورانی و عظیم شخصیت کے بارے میں چند اقتباسات پیش کرتا ہوں جہاں آپ امام سجاد علیہ السلام کی سیرت کے بارے میں فرماتے ہیں: "امام سجاد علیہ السلام کی حقیقی شخصیت ایک بہادر، نہ تھکنے والے، نہ صلح کرنے والے اور پُرعزم مجاہد کی سی ہے جو مکمل تدبیر اور گہری بصیرت کے ساتھ راہوں کو پہچانتے، ان کا انتخاب کرتے اور اپنے اہداف کی جانب گامزن رہتے ہیں؛ وہ خود تھکتے نہیں اور دشمن کو تھکا دیتے ہیں۔" (رہبر انقلاب کے بیانات، ماہِ محرم ۱۳۶۵ ہجری شمسی)

حجت الاسلام مروجی طبسی نے کہا: امام زین العابدین علیہ السلام نے پینتیس سال امامت فرمائی۔ آپ علیہ السلام اس دور میں حکمتِ الٰہی کے تحت امامت کے ربط کو قائم رکھنے کے خاطر شدید بیماری میں مبتلا ہوئے۔ انہوں نے انتہائی دشوار، پُرآسیب اور غم آلودہ دور گزارا۔ اسی لیے ان کی شخصیت کی عظمت کے بارے میں گفتگو بہت دشوار ہے۔
انہوں نے کہا: امام سجاد علیہ السلام بنی امیہ کی ننگین حکومت کے سخت اور اختناق کے دور میں زندگی بسر کر رہے تھے، ایسی حکومت جس نے تاریخ کے مجرموں کے چہرے دھل دیئے۔ آپ واقعہ دلخراش کربلا کے بعد مدینہ میں حاضر تھے اور ان کی ایک اہم فعالیت، رہبر معظم انقلاب کے تعبیر کے مطابق، "کادر سازی" (مومنین کی تربیت) تھی۔ آپ معاشرے کی ترمیرِ نو، مؤمن کی تربیت اور اہل بیت علیہم السلام کی محوریت پر الٰہی حکومت کے قیام کے لیے عوام کو تیار کرنے کی غرض سے قدم اٹھا رہے تھے۔
جامعہ حضرت معصومہ (س) کے علمی کمیٹی کے رکن نے امام سجاد علیہ السلام کے معاشرے کی روحانی بیداری میں راہنما کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس سلسلہ میں امام کا ایک اہم اقدام اپنے وقت کے حالات کے مطابق لوگوں کو نصیحت و موعظہ تھا۔ روایات میں آیا ہے کہ آپ ہر جمعہ کو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں لوگوں کو وعظ فرماتے، انہیں آخرت کی ترغیب دیتے اور دنیا کی وابستگی سے ڈراتے۔ مرحوم کلینی نے کتاب شریف "کافی" میں ابو حمزہ ثمالی سے ایک معتبر سند کے ساتھ نقل کیا ہے: "میں نے علی بن الحسین علیہما السلام سے زیادہ زاہد کسی کو نہیں دیکھا، سوائے اس کے جو میں نے علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں سنا تھا۔" ابو حمزہ کہتے ہیں کہ امام کا وعظ ایسا ہوتا کہ جو سب پر گہرا اثر ڈالتا تھا۔
انہوں نے آخر میں کہا: امام علیہ السلام کی سیرت سے جوہمیں سب سے بڑا سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں مقابلہ و مبارزہ سے تھکنا نہیں چاہیے؛ طاغوت سے مقابلہ منجی عالم بشریت حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور تک جاری رہے گا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کفر اور اپنے وقت کے طاغوتوں کے خلاف مبارزے کا پرچم استقامت کے ساتھ بلند رکھیں۔ یقیناً یہ راہ بہت مشکل اور بے شمار مصائب سے ہمکنار ہے لیکن اس کا انجام یہ ہے کہ انشاء اللہ حضرت ولیعصر (عج) کے عالمی قیام کے وقت ہم سرخرو چہرے اور عزت کے ساتھ یہ پرچم ان کے دستِ مبارک میں سپرد کر سکیں گے۔









آپ کا تبصرہ