بدھ 8 جولائی 2026 - 21:33
رہبرِ شہید سید علی حسینی خامنہ ای کے جنازے سے مقاومت کا کیا پیغام ملتا ہے؟

حوزہ / مقاومت کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان ظلم، جبر، ناانصافی اور استعمار کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرے۔ ایک عظیم رہنما کے جنازے میں لاکھوں افراد کی موجودگی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ نظریہ زندہ ہے، حوصلے باقی ہیں اور جدوجہد کا سفر جاری رہے گا۔

تحریر: سید وجیه حیدر

حوزہ نیوز ایجنسی | کسی بھی عظیم شخصیت کا جنازہ صرف ایک رسمی مذہبی یا سماجی تقریب نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس شخصیت کے افکار، جدوجہد اور نظریات کی اجتماعی گواہی بھی بن جاتا ہے۔ جب کوئی رہنما اپنی پوری زندگی حق، انصاف، آزادی اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف کر دے تو اس کی آخری رسومات بھی ایک پیغام بن جاتی ہیں۔ ایسے موقع پر عوام کی شرکت، ان کے جذبات اور ان کے عزم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نظریات کو جسمانی موت ختم نہیں کر سکتی۔ بالکل اس کا عکس ہمیں آج پوری دنیا میں نظر آ رہا ہے خصوصاً ایران میں۔

اس وقت ہم دیکھ رہے کہ رہبر انقلاب سید علی حسینی خامنہ ائ سے اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے اور رہبر جدید سے تجدید عہد کرنے کے لیے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں عوام سڑکوں اور شاہراہوں پر موجود ہے یہ سب اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چاہے حق کو جبر کے ساتھ دبانے یا ختم کرنے کی کوشش کی جائے وہ کبھی فراموش نہیں ہو سکتا بلکہ اور گہرا ہو کر ایک ایسا نشان چھوڑ جاتا ہے جو حق کے متلاشیوں کے لئے مشعل راہ اور باطل قوتوں کے سر قلم کرنے والا ایسا ہتیار ہے کہ جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔

مقاومت کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان ظلم، جبر، ناانصافی اور استعمار کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرے۔ ایک عظیم رہنما کے جنازے میں لاکھوں افراد کی موجودگی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ نظریہ زندہ ہے، حوصلے باقی ہیں اور جدوجہد کا سفر جاری رہے گا۔

یہی وہ سفر ہے کہ جو حسین ع مظلوم کا سفر کربلا کے یہ وہی راستہ ہے کہ جو حسین ع کا راستہ ہے کہ باطل اور حق کبھی مل نہیں سکتے ان میں چودہ سو برس پہلے امام حسین علیہ السلام نے جو فرق کی واضح لکیر کھینچی ہے اس لکیر کو اس دور میں سید علی حسینی خامنہ ائ نے اپنے خون سے دوبارہ واضح کر دیا اور دنیائے اسلام اور دنیائے یہود و عیسائیت کو بتلا دیا کہ اگر اس دنیا میں ایسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو کہ حق کے چاہنے والوں اور حق پسندوں میں تمہارا نام بھی شامل ہو تو حسینییت کی راہ کا انتخاب کرو کیونکہ یہی راہ ہدایت ہے یہی راہ انسانیت ہے ۔

یہی وہ پیغام ہے جو ہر ایسی تاریخی تقریب سے سامنے آتا ہے کہ افراد دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن ان کے افکار اور اصول آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتے ہیں۔

مقاومت صرف میدانِ جنگ کا نام نہیں، بلکہ صبر، استقامت، اتحاد، شعور اور حق پر ثابت قدم رہنے کا نام بھی ہے۔ جب لوگ کسی رہنما کی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں تو وہ دراصل اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم کا ساتھ دینا ایک اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔اور اس وقت ایران کی غیور عوام اور جہاں جہاں انسانیت زندہ ہے چاہے وہ خود امریکہ میں مقیم افراد ہی کیوں نہ ہو اس اخلاقی اور انسانی زمہداری کو بخوبی انجام دے رہے ہے۔ ایسے مواقع نوجوان نسل کے لیے بھی ایک اہم سبق رکھتے ہیں۔

سید علی حسینی خامنہ ائ ہمیشہ اپنی تقاریر میں عرض کرتے تھے کہ "آپ مجھے دیکھ کر مجھ سے محبت کرتے ہیں مگر میں آپ کو دیکھے بغیر آپ سے محبت کرتا ہوں"۔ نوجوان نسل یہ سیکھتی ہے کہ قوموں کی عزت، خودمختاری اور آزادی قربانی، بصیرت اور ثابت قدمی سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک زندہ قوم اپنے محسنوں کو صرف یاد نہیں کرتی بلکہ ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم بھی کرتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی عظیم رہنما کے جنازے کا سب سے بڑا پیغام یہ ہوتا ہے کہ نظریات افراد سے بڑے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی تحریک حق، انصاف اور انسانی وقار پر قائم ہو تو اس کے رہنما کی وفات بھی اس تحریک کے خاتمے کا سبب نہیں بنتی، بلکہ وہ اس کے پیروکاروں میں نئے عزم، اتحاد اور استقامت کی روح پھونک دیتی ہے۔ یہی مقاومت کی حقیقی روح ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، حق اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے اور شہید آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای اسی راستے کا انتخاب کر کے ہم سے رخصت ہو گئے ۔

دعا ہے پروردگار کریم سے کہ وہ ہم سب کو راہ حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha