حوزہ نیوز ایجنسی|
قائد شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ، مشہد مقدس میں علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کے زیر سایہ اس وقت فروکش ہوئے جب اپنی قوم وملت کو پیغام وعمل کے ذریعے بیدار، متحد اور پرعزم وحوصلہ کر گئے۔
کونوا دعاۃ للناس بغیر السنتکم۔۔۔ حدیث
لوگوں کو اپنے عمل سے دعوت دو
آج دینی قیادت اپنے بلند اور اونچے منارے پر کھڑی ہے اور دنیا کے قائدین کے لئے آئینہ بنی ہوئی ہے۔
ایسا قائد جو خالص دینی ومذہبی جذبہ کے ساتھ آیا قوم والوں سے کچھ لیے بغیر بہت کچھ دے گیا۔
عزت، شرف، آزادی، حریت فکر، حریت ضمیر، خدا پر ایمان و یقین آخرت کا خوف محاسبہ نفس آپسی تعاون برادری و برابری استقلال اور طاغوت زمانہ، یزیدان دور امریکہ واسرائیل جیسے بانیان شر کے سامنے آخر وقت تک ڈٹے رہنا اور انہیں خوار وذلیل سمجھنا۔
مثلی لا یبایع مثلہ ای مثل یزید
وہ آج زیر خاک آسودہ خاطر ہیں؛ مگر ہم نہ بھولیں مظلومین کی آواز دبے کچلے انسانوں کا حامی و مددگار پیوند زمیں ہوگیا ہے دنیا ایسے جیالے ایسے ساونت اور بہادر سورما کب پیش کر پائے گی۔
اس کی قوت اس کا شرف تو بس سرزمین دین سرزمین مکتب سرزمین ایمان واسلام ہی کو حاصل ہے مادی طاقتیں بانجھ اور ایسے عظیم انسان کو پیش کرنے سے قاصر ہیں۔
البتہ نہ یہ پہلے عظیم ہیں اور نہ آخری ہاں جس جادہ نورانی کے یہ ذیشان والا مقام راہ پیما تھے۔ اس راستے میں جابجا ایک سے بڑھ کر ایک سنگ میل نظر آئیں دنیا بس آنکھوں کو کھولے جہالت وعصبیت کے عینک اتارے سب صاف نظر آئے گا۔ جی یہ جادہ نورانی حیسن ابن علی کا جادہ ہے۔ کربلا والوں کی شاہ راہ ہے جہاں نور روشنی علم ودانش حق وصداقت اور انکار باطل کے مسلسل ستارے جگمگ جگمگ کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔
ہم قائد شہید سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی جدائی میں سوگ وار ہیں۔
مگر نہ مایوس ہیں نہ ہی راہ شہید سے سر مو ہٹنے والی قوم وملت کی خدمت میں تعزیت و تسلیت اور حضرت حجت عج کی خدمت اقدس میں اسلام کے اس عظیم مجاہد کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہیں۔
والسلام مع الاکرام
سید مشاہد عالم رضوی









آپ کا تبصرہ