تحریر: صبا غلام قادر
حوزہ نیوز ایجنسی|
حضرت فاطمہ الزہراء کی زندگی محض تاریخی یا مذہبی حوالہ نہیں، بلکہ ایک زندہ اور قابلِ اطلاق نمونہ ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے افکار اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ سیرتِ فاطمی میں فردی تزکیہ، خاندانی استحکام، سماجی ذمہ داری اور سیاسی بصیرت جیسے عناصر ایک جامع نظام حیات کی تشکیل کرتے ہیں۔ لہٰذا، عصرِ حاضر میں ایک متوازن اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے لیے سیرتِ فاطمہ کو عملی طور پر اپنانا ضروری ہے۔
اس وقت اگر ہم دنیا کے بارے میں فکر کریں اور نظر کریں تو اس وقت دنیا کے تشہیراتی ادارے ہرخطے میں انسانی معاشروں کے سامنے نئے نئے گمراہ کن نمونے پیش کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے نمونوں میں کشش نہیں ہے اور کامیاب نہیں ہیں پھر بھی گمراہ کن کوششیں جاری ہیں۔ اس مقصد کے لئے اداروں کا استعمال کیا جارہاہے مصنفوں کو خریدا جارہا ہے۔ ظاہری شان و شوکت والی شخصیتوں سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے سامنے فرومایہ نمونے پیش کیےجارہے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ لوگوں کو کسی خاص سمت لے جایا جاسکے۔ اس سازش کے تحت بڑے پیمانے پر دولت خرچ کی جاتی ہے۔ ہالیووڈ کی فلمیں اور ان جیسے دیگر پروگرام خاص مقصد کے تحت تیار کئے جارہے ہیں۔ اسی طرح دنیا کا سرمایہ دارانہ نظام اس کی واضح مثال ہے۔ اس نظام کی فوجی طاقت وہ کمپنیاں ہیں جو امریکی حکومت کے پیچھے ریشہ دوانیاں کر رہی ہیں۔ وہ اپنے مدنظر نمونوں کی تشہیر کرنے کے لئے تمام وسائل سے استفادہ کرتی ہیں۔ قوموں کا عالم یہ ہے کہ ان کے پاس ایسے نمونوں کا فقدان ہے جنہیں وہ اپنی طرف سے پیش کر سکیں۔
جبکہ ہم مسلمانوں کے پاس نمونۂ عمل موجود ہے۔ ہمارے سامنے عظیم ہستیوں کے کردار ہیں۔
عظیم خاتون:
عورتوں کے موضوع پر گفتگو کی جائے تو اسلام میں بڑی باعظمت خواتین مل جائیں گی جن میں سب سے عظیم صدیقہ کبریٰ حضرت فاطمہ زھراء (س) کی ذات گرامی ہے جن کی آج کے دور میں ہمیں نمونہ عمل کے عنوان سے اشد ضرورت ہے۔
یہ درخشاں سورج تمام موجودات عالم کو فیضیاب کرتا ہے یہ سورج ہمارے گھر کے آنگن میں اپنی روشنی بکھیر رہا ہے۔ اس فکر میں رہنا چاہئے کہ اس سے کس طرح استفادہ کیا جائے۔ آسمان پر چمکنے والے سورج کو دیکھ دیکھ کر اگر ہم گھنٹوں اس کے گُن گاتے رہیں اور اپنی فہم ناقص کے سہارے اس کی توصیف کرتے رہیں لیکن اس کی روشنی سے استفادہ نہ کریں، اپنے جسم کی تقویت اور ضرورتوں کی تکمیل نہ کریں تو یہ عقلمندی نہیں کہلائے گی۔ ان عظیم ہستیوں کی شان و منزلت بہت بلند ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں ان افراد پر جو ہمارے ملک میں شیعیت کا تحفہ لے کر آئے اور نتیجاً ہم عظیم حقائق سے آشنا ہوئے۔ اگر یہ نہ ہوا ہوتا تو بڑی دشواریاں پیش آتیں۔ اللہ کی رحمت نازل ہو ان شعلہ بیان زبانوں، شمشیروں اور قلموں پر جن کے ذریعے یہ حقائق ہم تک پہنچے اور ہم نے انہیں دیکھا اور سمجھا۔ ہمارا مقدر جاگا اور ہم ولایت اہلبیت اطہار سے روشناس ہوئے، اس نعمت عُظمیٰ اور خوش قسمتی پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
حضرت فاطمہ الزہراء (س) ایک روشن نور:
وَعَلَٰمَٰتٖۚ وَبِٱلنَّجۡمِ هُمۡ يَهۡتَدُونَ.
ترجمہ: اور لوگ ستاروں سے بھی راستے معلوم کرتے ہیں۔
عاقل انسان اس طرح کے ہوتے ہیں جو ستاروں سے استفادہ کرتے ہیں۔ستارے آسمان میں چمکتے ہیں۔ وہاں عالم عظیم ہے کیا یہ ستارے آسمان میں وہی ہیں جو ہم اور آپ دیکھتے ہیں؟بعض ستارے جو آسمان میں ایک نکتے کی طرح جھلملاتے ہیں درحقیقت کہکشائیں ہیں۔ خدا کی قدرت کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ مگر ہمیں ایک چھوٹا روشن ستارہ نظر آتاہے۔ ان باتوں کا مطلب کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ عاقل انسان کو جس خدانے آنکھیں دی ہیں، ان ستاروں سے اپنی زندگی میں استفادہ کریں ۔
وَعَلَٰمَٰتٖۚ وَبِٱلنَّجۡمِ هُمۡ يَهۡتَدونَ۔ ان کے ذریعے راستے تلاش کرتے ہیں۔ عالم خلقت کے یہ ستارے وہی نہیں ہے جو ہمیں نظر آتے ہیں۔ حضرت فاطمہ الزہرا (س) ان باتوں سے بہت بلند و بالا ہیں۔ ہم صرف درخشندگی دیکھتے ہیں مگر آپ کی ہستی اس سے بہت عظیم ہے ۔ ہم کیا استفادہ کرتے ہیں؟
زَھرَاء نُورُھَا لِلمَلَائِکَۃِ السَّمَاءِ وہ اس نور سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ اس نورانیت سے کیا ہمیں استفادہ کرنا چاہیے؟ ہمیں اس درخشاں ستارے سے کہ جو خدا کا راستہ، راہ بندگی، جو سیدھا راستہ ہے اور جس پر چل کر حضرت فاطمہ الزہرا (س) اعلیٰ نمونہ بن گئی۔ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی شخصیت کامل و معروف شخصیت ہیں۔ اگرچہ ان کی زندگی بہت مختصر تھی لیکن زندگی کے مختلف شعبوں جیسے جہاد، سیاست، گھر اور معاشرے میں ان کی زندگی نورانیت اور جامعیت نے انہیں ممتاز بنادیا۔
حضرت فاطمہ الزہراء (س) بیٹی کے کردار میں:
یہ بیٹی، ان سخت ترین حالات میں اپنے والد کیلئے فرشتہ نجات تھی اور یہ زمانہ تھا کہ جب حضرت خدیجہ (س) نے داعی اجل کو لبیک کہا اور یہی وقت تھا کہ جب آپ کے مُحسن چچا حضرت ابو طالب ؑ نے دنیا سے رخت سفر باندھا اور پیغمبر اکرم ؐ کو اکیلا چھوڑ دیا ۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب یہ بیٹی اپنے باپ کی دلجوئی کرتی تھی۔ ان کی خدمات کرتی اور غم و مشکلات کی گرد و غبار کو ان کے چہرے سے صاف کرتی۔ اس بیٹی نے اپنے بابا کی اتنی خدمات انجام دی کہ پیغمبر اکرم ؐ نے اس سات، آٹھ سالہ دختر کو کہا "ام ابیہا" کا لقب دیا یعنی یہ بیٹی اپنے والد کی ان کی ماں کی طرح دیکھ بھال کرتی تھی۔ ایسا باپ کہ عالم کی تمام مشکلات نے جسے اپنے نشانے پر لیا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود تمام بشریت کی ہدایت کی ذمہ داری اس کے دوش پر تھی۔
حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی شادی ایک نمونہ:
جناب زہرا (س) اور حضرت امام علی (ع) کی شادی اسلامی نمونہ کا سب سے زیادہ اہم اور حساس ترین ازدواج ہوسکتا ہے کیونکہ جناب زہرا (س) کے والد جزیرۃالعرب کی بہت بڑی شخصیت بلکہ جہاں اسلام کی اہم شخصیت اور برگزیدہ پیغمبر ہیں۔ لڑکی بھی بہترین، عاقل ترین، تربیت شدہ اور باکمال ہیں۔ دنیائے بشریت کی عورتوں میں سے ایک، اور داماد حسب و نسب کے لحاظ سے عرب کے شریف زادگان میں سے ہیں۔علم، کمال اور شجاعت کے لحاظ سے تمام مردوں پر برتری رکھتے ہیں۔ آپ رسول خدا ؐ کے رسمی جانشین، وزیر اور مشیر ہیں اور لشکرِ اسلام کے دلاور مرد اور سپہ سالار ہیں۔ اس قسم کی شادی کو جتنا ہوسکتا تھا پر شکوہ اور خاص تشریفات سے برپا ہونا چاہیے تھا لیکن تاریخ میں ہے کہ یہ تقریب بہت سادگی سے انجام پذیر ہوئی۔ اس سے زیادہ تعجب آور بات یہ ہے کہ یہی مختصر جہیز بھی خود حضرت زہرا (س) کے حق مہر سے خریدا گیا۔ یوں نہیں کیا گیا کہ حق مہر کو محفوظ کر لیا گیا اور لڑکی کے باپ نے ہزاروں مصائب اور درد سری سے اپنی لڑکی کے لئے جہیز اپنی جیب سے مہیا کیا ہو۔ پیغمبر جیسے بھی ہوسکتا اگرچہ قرض ہی لے کر کیوں نہ ہوتا یوں کر سکتے تھے کہ بہت آبرومندانہ جہیز اس دن کے معمول کے مطابق اپنی اکلوتی عزیز ترین بیٹی کے لئے مہیا کرتے اور یوں کہتے کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں اور مجھے اپنی شان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ میری بیٹی دنیا کی عورتوں میں سے بہترین ہیں، اس کا احترام اور اُس کے زحمات کی قدردانی، اس کی آبرو کے لحاظ سے بہترین وسائل اور اسباب مجھے مہیا کرنے چاہیے لیکن پیغمبر اسلام کو معاشرہ میں جہیز میں مقابلہ اور زیادتی کے ضرر اور مفاسد کا علم تھا۔ کہ اگر مسلمان اس مصیبت میں گرفتار ہوگئے تو انہیں عمومی فقر، اقتصادی دیوالیہ پن، کثرت طلاق، جوانوں کی شادی کرنے کے رجحان میں کمی، روز بہ بروز بے زن جوانوں اور بے شوہر لڑکیوں کی زیادتی، جرائم اور جنایات کی کثرت، مختلف قسم کے فحشاء اور برائیوں کا وجود میں آنا جیسی مصیبتوں میں گرفتار ہونا پڑے گا۔ جس کا مشاہدہ آج ہم اپنے معاشرے میں کر رہے ہیں۔ اس لئے اس شادی کے منتظمین اسلام کی پہلی اور دوسری شخصیت تھی کمال سادگی سے عمل میں لائی تاکہ یہ ملت اسلامیہ اور مسلمانوں کے لئے عملی درس واقع ہو۔ حضرت امام علیؑ بھی ان کوتاہ فکر جوانوں میں سے نہ تھے کہ جو مال اور دولت اکٹھا کرنے کے لئے شادی کرتے ہیں کہ اگر جہیز میں کچھ کمی ہوئی تو ہر روز اپنی بیوی کے لئے درد سر بنے رہتے ہیں اور اسے ڈانٹ ڈپٹ اور اعتراضات سے ازدواجی زندگی کو متزلزل کردیتے ہیں۔ اور باصفا اور گرم زندگی کو بے محل بہانوں سے انس و محبت کے گھر کو اختیاری قیدخانہ میں تبدیل کردیتے ہیں۔ حضرت علیؑ ملت اسلامی کے امام اور پیشوا تھے اور چاہتے تھے کہ اس قسم کی غلط فکر سے مبارزہ کیا جائے۔ دولت آپ کی نگاہ میں کچھ قیمت نہ رکھتی تھی۔
اسلام نے صرف یہ نہیں کہ عورت کے حقوق کو بیان کیا ہے۔ بلکہ ان کے حدود اور (Ideal) کو مشخص اور واضح کیا ہے۔ اور اپنی تعلیمات کے مطابق مثالی نمونوں کو پرورش دیتے ہوئے انہیں عوام کے ان کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے اور پیروی کرنے کے لئے قرار دیا ہے۔ اسلام نے عورتوں کے لئے نمونہ عمل شخصیات کی کوئی کمی نہیں چھوڑی، لیکن ان میں سب سے زیادہ معروف اور کامل شخصیت حضرت فاطمہ الزہرا (س) کی ہے۔ ان کی زندگی کے مختلف شعبوں، جہاد، سیاست، گھر اور معاشرے و اجتماعیت میں ان کی زندگی کی برکت، نورانیت، درخشندگی اور جامعیت نے انہیں ممتاز اور بے مثل و بے نظیر بنا دیا ہے۔ اور یہی ایک عظیم شخصیت تمام عورتوں کے لئے نمونۂ عمل ہیں۔









آپ کا تبصرہ