حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شمالی ٹیکساس کی ایک مسجد میں اسلام سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی مکالماتی نشست منعقد کی گئی۔
پروگرام کے منتظم احمد نے بتایا کہ اس نشست کا مقصد مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان کھلے دل سے گفتگو کا ماحول پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ وقت پر مسجد کے دروازے تمام شہریوں کے لیے کھول دیے گئے، مہمانوں کا خیرمقدم کیا گیا، ان کی پذیرائی کی گئی اور اسلام سے متعلق ہر سوال کا تفصیلی جواب دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کی پیشگی منصوبہ بندی کی گئی، اراکین کو اس سے آگاہ کیا گیا اور عوام کو دعوت دینے کے لیے خصوصی بینر بھی شائع کیے گئے تاکہ لوگ مسجد آکر اپنے مذہبی شبہات کا ازالہ کر سکیں۔
احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اسلام زبردستی شریعت مسلط کرنا چاہتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شریعت انسانیت کی فلاح اور معاشرے کی بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت ہے، جسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے۔
مسجد کے امام جماعت محمد اللیثی نے شرکاء اور ان کے اہل خانہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اللہ کے بندوں کے لیے امن، سکون اور روحانی اطمینان کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسجد کے دروازے سب کے لیے کھلے تھے اور مختلف خاندانوں نے یہاں آکر اسلام کے بارے میں اپنے سوالات کیے، جن کے تسلی بخش جوابات فراہم کیے گئے۔









آپ کا تبصرہ