حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے مرکزِ طبِ حج و زیارت کے شعبہ عتباتِ عالیات کے سیکریٹری ڈاکٹر دبیری نے بتایا کہ یہ خدمات عوامی مواکب اور ہلال احمر کے زیر انتظام طبی مراکز کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 202 مراکز میں سے 151 عوامی مواکب جبکہ 48 مراکز ملک بھر کی مختلف صوبائی ہلال احمر شاخوں کے تعاون سے چلائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عراق میں طبی آپریشن 14 جولائی سے ابتدائی ٹیموں کی روانگی کے ساتھ شروع ہوا، جبکہ 16 جولائی سے باقاعدہ طبی خدمات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ خدمات ماہ صفر کی 22 یا 23 تاریخ (16 یا 17 اگست) تک جاری رہیں گی۔
ڈاکٹر دبیری نے زائرین، خصوصاً ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں مبتلا افراد کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ضروری اور ہنگامی ادویات لازماً ساتھ رکھیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایسے افراد اپنے مرض، استعمال ہونے والی ادویات اور ذاتی معلومات پر مشتمل ایک کارڈ یا شناختی پرچی بھی اپنے پاس رکھیں تاکہ کسی ہنگامی صورت حال میں طبی عملہ فوری مدد فراہم کر سکے۔
انہوں نے پیدل سفر کرنے والے زائرین کو مشورہ دیا کہ دھوپ سے بچنے کے لیے ٹوپی یا چفیہ استعمال کریں، وقفے وقفے سے پانی اور دیگر چیزیں پیتے رہیں، شدید گرمی کے اوقات میں پیدل چلنے سے گریز کریں اور حتیٰ الامکان غروبِ آفتاب کے بعد سفر کریں۔
ڈاکٹر دبیری نے مزید بتایا کہ اگر کسی زائر کو طبی مدد درکار ہو تو وہ گوگل میپس کے ذریعے قریبی ہلال احمر طبی مرکز تلاش کر سکتا ہے، جبکہ 4030 ہیلپ لائن پر رابطہ کر کے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے زائرین کو سایہ دار راستوں کا انتخاب کرنے، ہر چند کلومیٹر بعد مختصر آرام کرنے اور مناسب مقدار میں پانی پینے کی بھی تاکید کی۔ ساتھ ہی ذاتی گاڑیوں سے سفر کرنے والوں کو ہدایت کی کہ ہر دو گھنٹے بعد کم از کم 15 منٹ آرام کریں اور ایسی ادویات استعمال نہ کریں جو غنودگی یا توجہ میں کمی کا باعث بنتی ہوں۔
ڈاکٹر دبیری نے کہا کہ یہ تمام ہدایات گزشتہ برسوں کے تجربات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہیں اور ان پر عمل کرنے سے اربعین کے روحانی سفر کے دوران زائرین کی صحت اور سلامتی کو بہتر طور پر یقینی بنایا جا سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ