ہفتہ 8 اگست 2026 - 18:35
الہیاتِ جنگ قرآن مجید کی روشنی میں

حوزہ/ عام طور پر جنگوں کو اسلحوں اور افراد کی تعداد پر ناپا اور تولا جاتا ہے کہ کس نے کتنی میزائیلیں برسائیں، کس نے کتنے ڈرون اُڑائے اور کس نے کتنے افراد مارے۔ گویا ظاہری نگاہیں صرف جنگ کی ریاضیات اور حساب و کتاب پر ٹکی ہوتی ہیں، جبکہ الٰہی اور ایمانی نگاہیں ریاضیاتِ جنگ سے زیادہ الہیاتِ جنگ کا مشاہدہ کرتی ہیں، کیونکہ ان کی بصیرتی آنکھوں میں آیاتِ الٰہیہ کا سُرمہ، دلوں میں اُمیدِ پروردگار کا دیا، لبوں پر امدادِ الٰہی کی دعا اور حرکات و سکنات میں دشمنوں کے حربوں کو کچل دینے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

تحریر: دانش عباس خان

حوزہ نیوز ایجنسی I

عام طور پر جنگوں کو اسلحوں اور افراد کی تعداد پر ناپا اور تولا جاتا ہے کہ کس نے کتنی میزائیلیں برسائیں، کس نے کتنے ڈرون اُڑائے اور کس نے کتنے افراد مارے۔ گویا ظاہری نگاہیں صرف جنگ کی ریاضیات اور حساب و کتاب پر ٹکی ہوتی ہیں، جبکہ الٰہی اور ایمانی نگاہیں ریاضیاتِ جنگ سے زیادہ الہیاتِ جنگ کا مشاہدہ کرتی ہیں، کیونکہ ان کی بصیرتی آنکھوں میں آیاتِ الٰہیہ کا سُرمہ، دلوں میں اُمیدِ پروردگار کا دیا، لبوں پر امدادِ الٰہی کی دعا اور حرکات و سکنات میں دشمنوں کے حربوں کو کچل دینے کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

قرآن مجید میں اکثر مقامات پر باطل طاقتوں سے نبردآزمائی کے وقت ریاضیاتِ جنگ پر الہیاتِ جنگ کو مقدم رکھنے کی بہت تاکید پائی جاتی ہے، جنہیں مندرجہ ذیل بیان کیا جا رہا ہے:

۱۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ ظالموں کی اچانک یلغار اور حملوں کا شکار ہونے پر زمینی طاقتوں سے مدد کے لیے فریاد کرنی چاہیے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«بَلَىٰ إِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ»* (آل عمران: ۱۲۵)

"ہاں اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو دشمن جب بھی تم پر اچانک حملہ کر دے، تمہارا رب اسی وقت پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔"

۲۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ لوگوں پر استکبار اور صہیونیت کی حکومت ہونی چاہیے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا» (* النساء: ۱۴۱)

"اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنین پر غالب آنے نہیں دے گا۔"

۳۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ ماہرینِ جنگ میدان کا نقشہ بدل دیتے ہیں، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

« *فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ»* (الأنفال: ۱۷)

"پس انہیں تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور (اے رسول) جب آپ کنکریاں پھینک رہے تھے تو آپ نے نہیں پھینکیں بلکہ اللہ نے پھینکیں۔"

۴۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ جس کے پاس افراد جتنے زیادہ، اس کا غلبہ بھی اتنا زیادہ، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

« *فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۖ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ»* (الأنفال: ۶۶)

"اب اگر تم میں سو صابر افراد ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں ایک ہزار ہوں تو دو ہزار پر، باذنِ خدا غالب آئیں گے۔"

۵۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ جس کے پاس مال و دولت زیادہ ہے وہ طاقت کا بھی اتنا ہی دھنی ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ»* (الأعراف: ۹۶)

"اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔"

۶۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ اگر سوپر پاور طاقتوں کے ساتھ رہو تبھی کامیاب رہو گے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ»* (محمد: ۷)

"اگر تم اللہ کی نصرت کرو گے تو وہ تمہاری نصرت کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا۔"

۷۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ جس کی حمایت سوپر پاور طاقتیں کر دیں تو جیت کا سہرا اس کے سر ہو جائے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا»* (الحج: ۳۸)

"بیشک اللہ صاحبانِ ایمان کا دفاع کرتا ہے۔"

۸۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ جو بھی جنگ میں مارا گیا اس کا قصہ تمام ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ»* (البقرة: ۱۵۴)

"جو شخص راہِ خدا میں قتل کیا گیا اسے مردہ نہ کہو!"

۹۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ جس کے پاس ترقی یافتہ اسلحے ہوں گے وہ جنگ جیت سکتا ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ»* (الفتح: ۱۰)

"دستِ خدا تمام ہاتھوں سے بلند و بالاتر ہے۔"

۱۰۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ جس کے پاس میڈیا ہے وہ عزت مند اور مقتدر ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ»* (فاطر: ۱۰)

"جو شخص عزت کا خواہاں ہے تو (وہ جان لے کہ) عزت ساری اللہ کے لیے ہے، پاکیزہ کلمات اسی کی طرف صعود کرتے ہیں اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے۔"

۱۱۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ عالمی طاقتیں جس کی پشت پناہ ہوں وہ غالب ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

*«إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ»* (آل عمران: ۱۶۰)

"اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی بھی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکے؟"

۱۲۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ فوجی ٹیکنیک اور جنگ کا پیچیدہ نقشہ ہی جنگ کے انجام کا پتہ دیتا ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

«وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ»* (آل عمران: ۵۴)

"ان لوگوں نے مکر و حیلہ کیا تو اللہ نے بھی تدبیر فرمائی اور اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔"

۱۳۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ اقتصادی پابندیوں سے دشمن کو جھکایا جا سکتا ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

« *وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا / وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ»* (الطلاق: ۲-۳)

"جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لیے (رزق کا) راستہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو۔"

۱۴۔ ریاضیاتِ جنگ کہتی ہے کہ بموں کی بارش سے لوگوں کا سکون و چین چھینا جا سکتا ہے، جبکہ الہیاتِ جنگ کہتی ہے:

«هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ» (الفتح: ۴)

"وہی اللہ ہے جس نے مومنین کے دلوں پر سکون نازل کیا تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ مزید ایمان کا اضافہ ہو۔"

خلاصہ:

اس طرح قرآن مجید کی دسیوں آیات ہیں جو جنگی حالات میں مومنین کو بار بار باور کراتی ہیں کہ خدا تمہارے ساتھ ہے جس کا خلاصہ ایک آیت میں کیا جا سکتا ہے: *إِنَّ مَعِيَ رَبّي سَيَهدينِ (شعراء:۶۲)

بیشک میرا پروردگار میرے ساتھ ہے، اور جلد ہی مجھے راستہ کا دکھائے گا.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha