حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم میں امور طلاب و فارغ التحصیلان کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین حسن علی صبور نے یوم صحافت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: یہ دن ان صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جو اپنے قلم، کیمرے اور صداقت و شجاعت کے ذریعہ آگاہی اور حقیقت کی سرحدوں کی پاسداری کرتے ہیں اور معاشرے کو معلومات اور آگاہی فراہم کرنے کی راہ میں گامزن ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: وہ صحافی اور خبر رساں ادارے جو حقیقت کے ترجمان اور عوام کی آواز ہیں، معاشرے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس شعبے سے وابستہ تمام افراد عوام کی خدمت، آگاہی اور روشنگری کی راہ میں کامیاب ہوں گے اور ہم اللہ تعالیٰ سے ان کی صحت، مزید توفیقات اور نیک عاقبت کے لیے دعا گو ہیں۔
حوزہ علمیہ قم میں امور طلاب و فارغ التحصیلان کے سرپرست نے تاریخِ صحافت میں شہید صحافیوں کے مقام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: 17 مرداد/ 8 اگست، شہید صحافی محمود صارمی کی برسی کا دن ہے، جو ان انسانوں کی فداکاری کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے حقیقت کو زندہ رکھنے اور اپنی صحافتی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے اپنی جانوں سے گزر جانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔
حجت الاسلام والمسلمین صبور نے کہا: شہید صحافیوں نے ہمیں سکھایا کہ ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری صرف خبر نشر کرنا نہیں بلکہ حقیقت کا دفاع، عوامی آگاہی کو تقویت دینا، معاشرے میں امید کے فروغ میں مدد کرنا اور معاشرتی تبدیلیوں کی درست عکاسی کرنا بھی ہے۔
انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی کے حوزات علمیہ و علماء سمیت ملکی و غیرملکی اہم خبروں کی بروقت اور درست ترسیل پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مزید کہا: حوزہ نیوز ایجنسی، حوزہ علمیہ اور معاشرے کے درمیان روابط میں پل کی مانند ہے۔ یاد رہے کہ بحرانی حالات میں صحافی کو بیک وقت تین اہم اصولوں کو مدنظر رکھنا ہونا ہوتا ہے: اول خبر میں درستگی، دوم اطلاع رسانی میں سرعت اور سوم احساسِ ذمہ داری۔
حجت الاسلام والمسلمین صبور نے کہا: خبر کی اشاعت میں سرعت اہم ہے لیکن اس رفتار کی قیمت خبر کی صحت کا خاتمہ نہیں ہونی چاہیے۔ صحافی کو خبر شائع کرنے سے پہلے ذرائع کی جانچ پڑتال اور معلومات کے معتبر ہونے کا اطمینان حاصل کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ