جمعرات 13 اگست 2026 - 12:48
الاحساء میں شیعوں کے خلاف سعودی حمایت یافتہ تکفیری گروہ کی سرگرمیاں تیز

حوزہ/ سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء میں شیعوں کے خلاف ایک وہابی تکفیری گروہ کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ گروہ شیعوں کے خلاف اشتعال انگیزی، وہابیت کی تبلیغ اور تکفیری نظریات کو فروغ دے رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء میں شیعوں کے خلاف ایک وہابی تکفیری گروہ کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ گروہ شیعوں کے خلاف اشتعال انگیزی، وہابیت کی تبلیغ اور تکفیری نظریات کو فروغ دے رہا ہے۔

’’مسوّرات‘‘ نامی اطلاعاتی و حقوقی اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کی جانب سے ایران پر حملوں کے لیے سعودی فضائی حدود اور فوجی اڈوں کے استعمال کے بعد الاحساء میں مذکورہ گروہ کی سرگرمیاں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ’’دار الآل والصحب الوقفیہ‘‘ نامی یہ گروہ شیعوں کو ’’رافضہ‘‘ قرار دیتے ہوئے انہیں تشیع ترک کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ گروہ کی جانب سے ایسی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم بھی کی جا رہی ہے جن میں شیعوں اور ان کے ائمہ، بالخصوص حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں توہین آمیز اور تکفیری مواد موجود ہے۔

’’مسوّرات‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس گروہ کو سعودی وزارت داخلہ سے باضابطہ اجازت حاصل ہے، اس کا مرکزی دفتر ریاض میں ہے اور الاحساء میں بھی اس کی ایک شاخ سرگرم ہے۔ الاحساء کے ایک سماجی کارکن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گروہ نے بعض مقامی شخصیات اور تاجروں کو مدعو کرکے انہیں تکفیری کتابچے فراہم کیے ہیں۔

رپورٹ میں بعض کتابوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان میں الاحساء کے مقامی شیعہ باشندوں کو مشرک قرار دینے اور ان کے خلاف سخت اقدامات کی ترغیب دی گئی ہے۔ ایک اور کتاب میں امام حسین علیہ السلام سے براءت اور یزید بن معاویہ کے ساتھ ہمدردی کی دعوت دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس گروہ نے ایران کے خلاف سعودی وزارت خارجہ کے حالیہ بیانات بھی شائع اور تقسیم کیے ہیں۔ ایک مقامی شہری کی جانب سے اس سرگرمی کے قانونی جواز کے بارے میں سوال کیے جانے پر ایک وہابی مبلغ نے مبینہ طور پر کہا کہ گروہ مشرقی علاقے کے امیر کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے۔

’’مسوّرات‘‘ کے مطابق تکفیری عناصر سے لفظی جھگڑے کے الزام میں الاحساء کے کم از کم تین شہریوں کو الصالحیہ پولیس مرکز میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

ایک سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ الاحساء میں اس گروہ کی سرگرمیاں نئی نہیں ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں ان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب میں سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں کے دوران فرقہ واریت کو ماضی میں بھی ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

رپورٹ میں سعودی تعلیمی نصاب میں بعض اسلامی مکاتب فکر کے خلاف تکفیری تصورات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض درسی کتابوں میں شیعہ، صوفی اور دیگر مکاتب فکر کو ’’شرک اکبر‘‘ سے منسلک کیا گیا ہے۔ تاہم ان نصابی دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق اس رپورٹ میں پیش نہیں کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha