بدھ 19 اگست 2026 - 06:32
بیروت میں «لبنان میں انسانیت کے لیے اتحاد» کانفرنس؛ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا ناممکن ہے

حوزہ/ لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت اور ملک کو درپیش چیلنجز کے درمیان «لبنان میں انسانیت کے لیے اتحاد» کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی قومی وحدت، خودمختاری اور انسانی وقار کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو ناقابل قبول اور لبنان کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت اور ملک کو درپیش چیلنجز کے درمیان «لبنان میں انسانیت کے لیے اتحاد» کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک کی قومی وحدت، خودمختاری اور انسانی وقار کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو ناقابل قبول اور لبنان کے وجود کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

اس کانفرنس کا مقصد مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک ایسا قومی ماحول پیدا کرنا ہے جہاں لبنانی عوام مشترکہ انسانی اور قومی اقدار کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب آئیں اور اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے مقابلے میں اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

کانفرنس کے سربراہ، محقق اور سیاسی کارکن ڈاکٹر بسام الہاشم نے کہا کہ لبنان میں فرقہ وارانہ اور مذہبی شناختیں اس قدر مضبوط ہوچکی ہیں کہ ملک کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی نظام پر بھی ان کے اثرات نظر آتے ہیں۔ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ ایسی قومی اور انسانی شناخت کو مضبوط کیا جائے جو تمام لبنانیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی لبنانی شہری کو ملک کے جنوبی علاقوں کی تباہی اور اپنے ہم وطنوں کی شہادت پر کوئی احساس نہ ہو تو یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ملک کے ایک حصے اور اس کے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان سے بے حسی دشمن کے مفاد میں اور لبنان کی آزادی و خودمختاری کے خلاف ہے۔

الہاشم کے مطابق، یہ کانفرنس ایک آزاد، قومی اور علمی پلیٹ فارم ہے جو لبنان کے اہم قومی، سماجی اور انسانی مسائل کا جائزہ لے گا اور ملک کو مختلف خطرات سے محفوظ رکھنے، قومی خودمختاری کے تحفظ، تمام لبنانی علاقوں پر ریاست کی حاکمیت اور انسانی وقار کے دفاع کے لیے تجاویز پیش کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ داخلی امن، شہری حقوق اور قومی شراکت داری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کے تحت مختلف شعبوں کے ماہرین کی کمیٹیاں اور خصوصی مطالعاتی گروپ تشکیل دیے جائیں گے، باقاعدہ رپورٹس اور تحقیقی مطالعات شائع کیے جائیں گے، علمی و فکری مکالمے کے لیے پلیٹ فارم قائم کیے جائیں گے اور یونیورسٹیوں، تحقیقی مراکز اور سول سوسائٹی کے اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ اس عمل میں خواتین اور نوجوانوں کی شرکت کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

کانفرنس میں لبنان کی تعمیر نو، معاشی و سماجی ترقی، ماحولیات کے تحفظ، جنگ سے بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی اور ملکی وسائل کو قومی مفاد میں استعمال کرنے جیسے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت

اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بارے میں بسام الہاشم نے واضح طور پر کہا کہ صہیونی حکومت لبنان اور لبنانی عوام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس لیے ایسے دشمن کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا ہمارے لیے کوئی راستہ نہیں بلکہ ایک ناممکن امر ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے میں لبنان کو درپیش خطرات اور خفیہ منصوبوں کو صرف زبانی طور پر بیان کرنے کے بجائے ان کی نشاندہی، دستاویز بندی اور عوام کے سامنے حقیقت آشکار کرنا ضروری ہے۔

الہاشم نے کہا کہ یہ کانفرنس لبنان کی قومی بقا اور خودمختاری کے دفاع کے لیے جدوجہد کرنے والوں کی حمایت کرتی ہے اور لبنانی فوج کی بھی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ یہ کانفرنس ایک جامع، آزاد، قومی اور انسانی سوچ کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور اس کا مقصد ہے کہ وطن کا تحفظ، انسان کی عزت و کرامت کی حفاظت اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانا پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha