حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں اسرائیل کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر حزب اللہ اور اس کے حامیوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد صرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا نہیں بلکہ لبنان کو اندرونی اختلافات اور خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا بھی ہے۔
لبنانی تجزیہ کار واکیم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ معاہدہ ماضی کے 17 مئی کے معاہدے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ان کے مطابق پہلے لبنان کو اسرائیل کے ساتھ صلح کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی تھی، جبکہ اب ملک کو اندرونی طور پر تقسیم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی بعض شقیں فوج کو ایسے معاملات میں الجھانے کی کوشش کرتی ہیں جن سے فوج کے اتحاد اور قومی استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب، مشکل حالات اور بے گھر ہونے کے باوجود لبنان کے بہت سے شہری اس معاہدے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عزت کے ساتھ مشکلات برداشت کرنا قبول کرتے ہیں، لیکن اپنے ملک پر اسرائیلی تسلط یا ذلت آمیز سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار عمران ریزا کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں لبنان میں اب بھی تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہیں، جبکہ 14 لاکھ سے زائد افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بدامنی، تباہ حال بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کی بندش کے باعث ہزاروں خاندان بار بار نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
حزب اللہ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یکطرفہ جنگ بندی کے دوران بھی اسرائیل حملے جاری رکھتا رہا، جس کے باعث وہ اپنے نوجوانوں کی شہادتیں دیکھتے رہے۔ ان کے مطابق وہ بے گھر ہونا برداشت کر سکتے ہیں، لیکن خاموشی اور ذلت قبول نہیں کریں گے۔
حزب اللہ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں مزاحمت نے لبنان کی سرزمین کو اسرائیلی قبضے سے محفوظ رکھا اور ملک کی آزادی و خودمختاری کے لیے مسلسل قربانیاں دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ قیادت بھی لبنان کو خانہ جنگی یا اسرائیلی قبضے کی طرف جانے سے روکنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔









آپ کا تبصرہ