اتوار 23 اگست 2026 - 17:43
آیت اللہ نجابت کی زبانی آیت اللہ قاضیؒ کا تربیتی انداز

حوزہ/ آیت اللہ سید علی قاضیؒ دوسروں کے دل خوش کرنے کو محض ایک اخلاقی عمل نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے روحانی تربیت اور خدا کی رضا کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔ ان کے تربیتی طریقۂ کار کا ایک واقعہ آیت اللہ نجابتؒ نے نقل کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید علی قاضیؒ دوسروں کے دل خوش کرنے کو محض ایک اخلاقی عمل نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے روحانی تربیت اور خدا کی رضا کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔ ان کے تربیتی طریقۂ کار کا ایک واقعہ آیت اللہ نجابتؒ نے نقل کیا ہے۔

آیت اللہ نجابتؒ فرماتے ہیں کہ آیت اللہ قاضیؒ کی تربیتی روشوں میں سے ایک یہ تھی کہ وہ لوگوں کے دل جیتنے اور انہیں خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب وہ نجف اشرف میں حمام جاتے تو واپسی کے وقت حمام کے اس نوجوان خادم کو، جو ان کے جوتے سامنے لا کر ترتیب سے رکھتا تھا، ایک چوتھائی دینار دیتے تھے، جبکہ حمام کی معمولی اجرت چند فلس سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ یعنی وہ اس نوجوان کو معمول کی اجرت سے کئی گنا زیادہ رقم عطا کرتے تھے۔

آیت اللہ نجابتؒ فرماتے تھے کہ اس کا مقصد یہ تھا کہ آیت اللہ قاضیؒ اس نوجوان کا دل خوش کرنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک جب کسی انسان کا دل خوش ہوتا ہے تو چونکہ یہ دل خدا سے وابستہ ہے، اس لیے اسے خوش کرنے کا اثر انسان کی اپنی روحانی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔

آیت اللہ قاضیؒ اس عمل کے ذریعے دوسروں کو بھی یہ تعلیم دیتے تھے کہ کسی انسان کا دل خوش کرو، کیونکہ یہ دل خدا سے تعلق رکھتا ہے؛ اس عمل کا روحانی فائدہ خود تمہیں بھی حاصل ہوگا۔

ماخذ: ذکر الصالحین، ص 168

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha