اتوار 30 اگست 2026 - 10:20
اسلامی وحدت نعروں سے عملی میدان تک

حوزہ/اسلامی وحدت محض ایک دلکش نعرہ یا جذباتی مطالبہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک دینی فریضہ اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان امتِ واحدہ کے تصور پر قائم رہے، دنیا میں عزت، ترقی اور سربلندی ان کا مقدر بنی رہی۔

تحریر : عامر حسین کشمیری

حوزہ نیوز ایجنسی|

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا(القرآن)

اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے (آپس میں پھوٹ) میں نہ پڑو۔

صَلُّوا فِي مَسَاجِدِهِمْ، وَعُودُوا مَرْضَاهُمْ، وَاشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ(امام صادق ع)

مسجدوں میں نماز ادا کرو، ان کے بیماروں کی عیادت کرو، اور ان کے جنازوں میں شریک ہوا کرو۔

اسلامی وحدت محض ایک دلکش نعرہ یا جذباتی مطالبہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک دینی فریضہ اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان امتِ واحدہ کے تصور پر قائم رہے، دنیا میں عزت، ترقی اور سربلندی ان کا مقدر بنی رہی۔ تاہم، موجودہ دور میں اسلامی وحدت کے نعرے تو ہر فورم پر بلند کیے جاتے ہیں، لیکن اگر عمل کے میدان کو دیکھا جائے تو مسلم امت گروہی، مسلکی اور قومی تقسیم کا شکار نظر آتی ہے۔

نعروں سے عمل کے میدان تک پہنچنے کے لیے سب سے پہلا قدم فکری و مذہبی تفرقہ بازی کا خاتمہ ہے۔ مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے درمیان موجود فروعی اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکات پر جمع ہونا ضروری ہے۔ کلمہ توحید، قرآن مجید اور رسالتمابؐ کی ذات گرامی وہ مضبوط بنیادیں ہیں جو تمام مسلمانوں کو ایک رشتے میں جوڑ سکتی ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے تنوع سمجھنا ہی عملی اتحاد کی پہلی سیڑھی ہے۔

دوسرا اہم قدم معاشی اور تعلیمی میدان میں عملی تعاون ہے۔ مسلم ممالک کو اپنی تجارت، سرمایہ کاری اور سائنسی تحقیق کو اپس میں مربوط کرنا ہوگا۔ جب تک ہم معاشی طور پر خود کفیل نہیں ہوں گے اور جدید علوم و فناوری میں پیش رفت نہیں کریں گے، تب تک ہماری سیاسی اور اخلاقی آواز میں وزن پیدا نہیں ہو سکتا۔ ایک مشترکہ معاشی بلاک اور علمی پلیٹ فارم کا قیام اس مقصد کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید برآں، مسلمان معاشروں میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی، برداشت اور احترام کا جذبہ بیدار کرنا ضروری ہے۔ ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نصاب کے ذریعے اتحاد و اخوت کے پیغام کو عام کیا جائے تاکہ نئی نسل نفرتوں سے پاک ذہن کے ساتھ پروان چڑھے۔

المختصر اسلامی وحدت صرف جلسوں اور کانفرنسوں میں تقاریر کرنے سے حاصل نہیں ہوگی۔ اس کے لیے سیاسی بصیرت، مذہبی رواداری اور معاشی و علمی میدانوں میں ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ جب امت مسلمہ نعروں سے نکل کر اپنے رویوں اور پالیسیوں میں عملی قدم اٹھائے گی، تب ہی ایک بار پھر دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha