بدھ 2 ستمبر 2026 - 19:24
سیریک میں شادی کی تقریب پر امریکی حملہ جنگی جرم کی واضح مثال ہے

حوزہ/ حوزات علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک میں رہائشی علاقوں اور شادی کی تقریب پر امریکی فضائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرم کی واضح مثال قرار دیا ہے۔ انہوں نے دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں مکمل طور پر سبق سکھانے تک مزاحمت اور مؤثر جواب جاری رکھنے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ایک بیان میں آج علی الصبح امریکی مجرم فوج کی جانب سے صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک کے رہائشی علاقوں اور ایک شادی کی تقریب پر کیے گئے فضائی حملے کی شدید مذمت کی۔

بیان کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

«وَ مَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهِ سُلْطَانًا فَلَا یُسْرِف فِّی الْقَتْلِ إِنَّهُ کَانَ مَنصُورًا۔»

(سورۂ اسراء، آیت 33)

ایک بار پھر عالمی استکبار کے نظام، بالخصوص جارح امریکی حکومت کا گھناؤنا چہرہ اور انسانیت کے دشمن کا ایک حقیقی رخ اس کے وحشیانہ جرم کے ذریعے سامنے آ گیا ہے۔ آج علی الصبح صوبہ ہرمزگان کے علاقے سیریک میں رہائشی علاقوں اور ایک شادی کی تقریب پر فضائی حملے کے نتیجے میں بے گناہ شہریوں، جن میں معصوم خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کی شہادت اور زخمی ہونے سے اس بزدلانہ جارحیت کے ہولناک پہلو مزید واضح ہو گئے ہیں۔

یہ جرم اسلام آباد مفاہمت کی خلاف ورزی اور مظلوم ایرانی عوام کے خلاف امریکی فوجی حملوں کے اس سلسلے کا تسلسل ہے، جس میں میناب کے شجرہ طیبہ اسکول پر بمباری اور درجنوں طلبہ کی شہادت، لامرد کے اسٹیڈیم، اسپتالوں اور دیگر غیر فوجی مقامات پر حملے شامل ہیں۔ اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ امریکی ریاستی دہشت گردی کی کوئی حد نہیں اور بے گناہ انسانوں کی جان و سلامتی ان کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ ان سانحات کے مقابلے میں انسانی حقوق کے جھوٹے دعوے داروں اور عالمی اداروں کی شرمناک خاموشی قابلِ غور اور باعثِ سوال ہے۔

کینہ پرور دشمن جان لیں کہ ایران، محورِ مزاحمت اور ملک کے تمام عسکری و سول ادارے، اللہ کے فضل سے اسلام، ایران اور امتِ مسلمہ کے خلاف ہونے والی جارحیت کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور حضرت ولی عصر علیہ السلام کی عنایت سے عالمی اور شیطانی تسلط کے مقابلے میں مزاحمت کی ایک نئی مثال اور نیا باب رقم کیا جائے گا اور علاقائی و عالمی معاملات میں ایک نمایاں اور تمدنی مرحلے کی بنیاد رکھی جائے گی۔

حوزات علمیہ کی انتظامیہ اور اعلیٰ ادارے تمام معزز حوزوی افراد کے ساتھ اپنے ہم وطنوں کی ایک بڑی تعداد کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہیں اور زخمیوں اور مجروحین کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ وہ اس وحشیانہ اقدام کی، جو تمام بین الاقوامی اصولوں اور انسانی اقدار کے منافی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں اور اسے ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرم کی واضح مثال قرار دیتے ہیں۔

ہم اسلامی جمہوریہ ایران کی مقتدر مسلح افواج کی حمایت کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے دشمن کو ایسا فیصلہ کن اور پشیمان کن جواب دیتے رہیں کہ دشمن مکمل طور پر باز آجائے، اور اسلامی مزاحمتی محور اور امتِ مسلمہ کی قوت و اثر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

وَ مَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللّٰهِ الْعَزِیزِ الْحَکِیمِ

علی رضا اعرافی

سربراہ حوزات علمیہ ایران

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha