ہفتہ 5 ستمبر 2026 - 17:05
ہندوستان کی تاریخی غیر جانبداری سے کثیر القطبی دنیا کی طرف نیا سفر

حوزہ/ہندوستان آج ایک بار پھر انصاف اور خودمختاری کی راہ پر گامزن؛ ایس سی او کے 26 ویں اجلاس میں ہندوستان کے مؤقف نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہے، یکطرفہ پابندیوں اور دہرے معیار کے خلاف آواز اٹھائی۔

تحریر: آغا سید عابد حسین الحسینی

حوزہ نیوز ایجنسی| ہندوستان آج ایک بار پھر انصاف اور خودمختاری کی راہ پر گامزن؛ ایس سی او کے 26 ویں اجلاس میں ہندوستان کے مؤقف نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہے، یکطرفہ پابندیوں اور دہرے معیار کے خلاف آواز اٹھائی۔

تاریخ کے اوراق میں جھانکیں تو ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا کردار ایک روشن ستارے کی مانند نظر آتا ہے جو ہمیشہ انصاف، مساوات اور خودمختاری کے فروغ کے لیے جلوہ گر رہا ہے۔ گزشتہ روز شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے بشکیک اجلاس میں جاری کردہ مشترکہ اعلامیے نے ایک بار پھر عالمی برادری کو پیغام دیا ہے کہ ہندوستان نہ صرف اپنی تاریخی روایت کے مطابق مظلوموں کا ساتھ دیتا ہے بلکہ ظالمانہ یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف بھی کھڑا ہے۔

تاریخی ورثہ: عدم وابستگی سے خودمختار خارجہ پالیسی تک

ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی اس کی خارجہ پالیسی کا مرکز "عدم وابستگی" رہی ہے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے اس اصول کو فروغ دیا کہ ہندوستان کسی بھی فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ پالیسی محمود غزنی کے حملوں سے لے کر استعماری طاقتوں کے خلاف جدوجہد تک ہندوستانی تہذیب کا حصہ رہی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ سنہ 1956 میں ہندوستان نے سوئز بحران کے دوران ہندوستان نے مصر کی حمایت کی اور1971 میں بنگالی عوام کے ساتھ کھڑا ہو کر ایک مظلوم قوم کو نئی زندگی بخشی اور 1990 کی دہائی میں فلسطین کے حق خود ارادیت کی آواز ہمیشہ بلند کی ۔

بشکیک اعلامیہ: ایک نیا باب، پرانی اقدار

اس مرتبہ بشکیک میں ہونے والے 26 ویں SCO اجلاس کا اعلامیہ اہم ترین دستاویز ہے۔ اس کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں:

ایران پر حملوں کی مذمت: اس اعلامیے میں ایران پر کیے گئے فوجی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے کر ان کی شدید مذمت کی گئی۔ ہندوستان نے پچھلے اجلاسوں کے برعکس اس مرتبہ اس بیان کی مکمل حمایت کی، جو امریکہ-اسرائیلی محور سے ہندوستان کی دوری کی علامت ہے۔

یکطرفہ پابندیوں کے خلاف متحد موقف: اعلامیے میں اقوام متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کے منافی عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کو مسترد کیا گیا۔ یہ وہی اصول ہے جس پر ہندوستان نے کئی دہائیوں قبل کیوبا اور ایران پر پابندیوں کے وقت بھی اعتراض کیا تھا۔

دہرے معیار کا خاتمہ: تمام رکن ممالک نے "دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی" کے خلاف بغیر کسی دہرے معیار کے جنگ لڑنے کا عزم دہرایا۔ وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں خاص طور پر اس نکتے پر زور دیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب یا رنگ نہیں ہوتا۔

مسلمانوں کے لیے خوش آئند پیغام

ہندوستان کے مسلمان عوام ہمیشہ سے عالمی مظلومیت کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ بشکیک اعلامیہ میں ایران کی خودمختاری، فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور مشرق وسطیٰ میں امن کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔ ہندوستان کا اس میں مثبت کردار مسلمانوں کے لیے باعثِ اطمینان ہے کہ ان کا ملک عالمی سطح پر ظلم کے خلاف کھڑا ہے۔

ماہرین سیاسیات کے مطابق اس اجلاس میں ہندوستان نے ثابت کیا کہ وہ "کثیر القطبی دنیا" (Multipolar World) کے تصور کو عملی شکل دے رہا ہے، جہاں کوئی ایک طاقت بالادست نہیں ہوگی بلکہ تمام ممالک کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔

معاشی اور ثقافتی خوشخبریاں

اس اجلاس میں لاہور کو 2026-27 کے لیے ایس سی او کا ثقافتی دارالحکومت قرار دینا، انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر شامل کرنا اور مستقبل میں ترقیاتی بینک کے قیام پر بات چیت جاری رکھنا علاقائی ہم آہنگی کی نوید ہے۔

ہندوستان آج ایک بار پھر انصاف اورخودمختاری کی راہ پر گامزن ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر نہرو سے لے کر وزیراعظم مودی تک سب نے چل کر عالمی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کیا۔ بشکیک اعلامیہ صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ ہندوستان ہمیشہ مظلوموں کا سہارا رہے گا اور کبھی ظالموں کا حلیف نہیں بنے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha