اتوار 6 ستمبر 2026 - 12:25
شاہ کے دور میں ایران کی معاشی ترقی کی حقیقت؛ اعداد و شمار کی چمک اور زمینی حقائق

حوزہ/ کئی برسوں سے سوشل میڈیا پر پہلوی دور کی معیشت کی ایک بہت اچھی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں مہنگائی نہیں تھی، معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور ایران جاپان بننے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لیکن ان دعووں کے پیچھے تیل پر زیادہ انحصار، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا فرق، غیر ملکی سامان کی بڑھتی خریداری اور بیرونی ممالک پر انحصار کی ایک دوسری حقیقت بھی موجود تھی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آپ نے بھی سوشل میڈیا پر شاہ کے دور کی نام نہاد خوش حالی کے بارے میں بہت سی تحریریں دیکھی ہوں گی۔ ان میں کہا جاتا ہے کہ ’’اس وقت مہنگائی نہیں تھی‘‘، ’’معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی‘‘ اور ’’ایران جاپان بننے والا تھا‘‘ وغیرہ۔

یہ تحریریں زیادہ تر شاہ کے حامی لوگوں کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ کچھ تصویریں اور اعداد و شمار بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ کبھی آزادی اسٹیڈیم جیسی چند بڑی عمارتوں کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں اور کبھی ایسے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں جو پہلی نظر میں درست معلوم ہوتے ہیں۔

ان تصویروں اور دعووں سے ہٹ کر اصل سوال یہ ہے کہ شاہ کے دور میں ایران کی معاشی ترقی کی حقیقت کیا تھی؟

اصل حقیقت کیا تھی؟

سال 1953ء کی بغاوت کے بعد ایران میں مغرب کے قریب سمجھی جانے والی حکومت مضبوط ہوئی۔ اس کے بعد برطانیہ اور امریکہ سمیت مغربی ممالک نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کیے۔ اس دوران ایران کے سب سے اہم قدرتی وسائل، یعنی تیل پر بھی ان کا اثر بڑھ گیا۔

1954ء میں ایران اور کئی مغربی کمپنیوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے ’’کنسورشیم معاہدہ‘‘ کہا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ایران کا اپنے تیل پر اختیار کم ہوگیا اور تیل کی تلاش، پیداوار اور فروخت کے اہم کام ان کمپنیوں کے ہاتھ میں چلے گئے۔ اس کے بدلے ایران کو منافع کا 50 فیصد حصہ ملنا تھا۔

یہ معاہدہ 25 سال کے لیے تھا اور مزید 15 سال تک اسے بڑھانے کی گنجائش بھی رکھی گئی تھی۔ اس وقت کے وزیر اعظم جنرل زاہدی نے معاہدے کے مخالفین کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ چند سال بعد دنیا میں ایٹمی توانائی عام ہوجائے گی اور تیل کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔

اس کے بعد ایران کو تیل سے بہت زیادہ آمدنی حاصل ہونے لگی۔ دنیا میں ہونے والے بعض واقعات، خاص طور پر عرب اسرائیل جنگ کے بعد تیل کی قیمت اور آمدنی میں مزید اضافہ ہوا۔

اس طرح ایران کی معیشت کے کئی اعداد و شمار بہت اچھے دکھائی دینے لگے۔ ملک کی آمدنی اور پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں مہنگائی بھی کئی سال بہت کم رہی۔

1970ء کی دہائی میں حالات بدل گئے

لیکن 1970ء کی دہائی کے آغاز میں حالات بدلنے لگے۔ 1960ء کی دہائی کے بعض برسوں میں تقریباً نہ ہونے کے برابر مہنگائی 1970ء کی دہائی میں بڑھ کر تقریباً 27 فیصد تک پہنچ گئی۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ تیل سے ملنے والی بہت زیادہ رقم کو ملکی پیداوار کے مطابق استعمال نہیں کیا جا سکا۔ ملک کی اپنی صنعت اور پیداوار اتنی مضبوط نہیں تھی کہ اتنی بڑی رقم کو صحیح طریقے سے استعمال کر سکے۔

دوسری طرف، ملک کی صنعت اور بنیادی سہولتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اتنا کام نہیں ہوا جتنا ہونا چاہیے تھا۔ اس لیے تیل کی آمدنی بڑھنے کے باوجود اس کا فائدہ پوری معیشت اور عام لوگوں تک نہیں پہنچ سکا۔

تیل کی آمدنی کہاں خرچ ہوئی؟

تیل سے ملنے والی رقم کا ایک بڑا حصہ ہتھیار خریدنے پر خرچ کیا گیا۔ اس طرح اس رقم کا بڑا حصہ دوبارہ مغربی ممالک کو چلا گیا۔

دوسری طرف، تیل کی دولت کا ایک حصہ معاشرے کے ایک مختصر اور امیر طبقے کے پاس پہنچا۔ اس طبقے نے اس رقم کا بڑا حصہ عیش و آرام اور مہنگی اشیا پر خرچ کیا۔

اس دوران امیر اور غریب کے درمیان فرق بھی بڑھتا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق آمدنی کی تقسیم میں فرق اتنا بڑھ گیا کہ جینی انڈیکس 0.50 سے بھی زیادہ ہوگیا۔

غیر ملکی سامان کی بڑھتی خریداری

امیر طبقہ عام طور پر ملکی مصنوعات کے بجائے غیر ملکی سامان خریدنے کو ترجیح دیتا تھا۔ اس کی وجہ سے ایران میں غیر ملکی سامان کی خریداری بہت زیادہ بڑھ گئی۔

نتیجتاً درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ملک کا تجارتی خسارہ بھی بڑھتا گیا۔ انقلاب سے پہلے یہ خسارہ غیر معمولی حد تک پہنچ چکا تھا۔

خلاصہ

شاہ کے دور کی معاشی ترقی کے بارے میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے پوری تصویر سامنے نہیں آتی۔

ایک طرف یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں ایران کی آمدنی اور پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا، لیکن دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس دولت کا فائدہ کس کو پہنچا اور عام لوگوں کی زندگی پر اس کا کیا اثر پڑا۔

تیل کی آمدنی پر ضرورت سے زیادہ انحصار، امیر اور غریب کے درمیان بڑھتا فرق، غیر ملکی سامان کی بڑھتی ہوئی خریداری اور بیرونی ممالک پر انحصار نے ایران کی معیشت کو کمزور کر دیا۔

اس لیے صرف معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر شاہ کے دور کو ایک مکمل خوش حال اور ترقی یافتہ دور قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha