اتوار 6 ستمبر 2026 - 20:48
موبائل فون تعلیم و تحقیق کا مؤثر ذریعہ ہے، نوجوان نسل اس کا غلط استعمال نہ کرے: مولوی عمران رضا انصاری

حوزہ/ سری نگرمیں 6 ستمبر 2026 کو آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام بلہامہ، سری نگر میں مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں عزاداروں اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔ مجلس کا آغاز صبح 9 بجے مرثیہ خوانی سے ہوا، جس کے بعد مجلس عزا منعقد ہوئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سری نگرمیں 6 ستمبر 2026 کو آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام بلہامہ، سری نگر میں مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں عزاداروں اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔ مجلس کا آغاز صبح 9 بجے مرثیہ خوانی سے ہوا، جس کے بعد مجلس عزا منعقد ہوئی۔

شام تقریباً 4 بجے آل جے اینڈ کے شیعہ ایسوسی ایشن کے صدر مولوی عمران رضا انصاری نے خطاب کرتے ہوئے حضرت امام علی علیہ السلام کی زندگی، تعلیمات اور کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے عدل، علم، انسانیت اور اخلاقی کردار کے حوالے سے امام علی علیہ السلام کی سیرت کو امت مسلمہ کے لیے نمونہ قرار دیا۔

مولوی عمران رضا انصاری نے کشمیر کے مسلم معاشرے کو درپیش مختلف سماجی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہونا صرف مذہبی شناخت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اظہار انسان کے کردار اور عمل سے بھی ہونا چاہیے۔ ہمارا کردار ایسا ہونا چاہیے کہ دوسرے لوگ مسلمانوں کو دیانت داری، اخلاق اور اچھے کردار کی مثال سمجھیں۔

انہوں نے کہا کہ مجلس عزا کا مقصد صرف شرکت کرنا نہیں بلکہ اس میں بیان ہونے والی تعلیمات پر غور کرنا اور یہ دیکھنا بھی ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ان پر کتنا عمل کرتے ہیں۔ مجلس کا حقیقی مقصد انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے علماء اور معاشرے کے تمام طبقات پر اجتماعی ذمہ داری عائد ہونے کی بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاندان یا معاشرے کے ایک حصے کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو دوسروں کو یہ سوچ کر خاموش نہیں رہنا چاہیے کہ اس کا تعلق ان سے نہیں ہے۔ صرف ذاتی مفادات کو ترجیح دینے سے معاشرے اور امت میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔

مولوی عمران رضا انصاری نے علماء کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماجی مسائل کے حل اور معاشرے کی بہتری میں علماء کا اہم کردار ہے۔

انہوں نے نوجوان نسل میں موبائل فون اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ موبائل فون تعلیم و تحقیق کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن اس کا غلط استعمال خاندانی اور سماجی تعلقات کو متاثر کر رہا ہے۔ بسا اوقات خاندان کے افراد ایک ہی جگہ موجود ہوتے ہیں لیکن ہر شخص اپنے موبائل میں مصروف ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے حقیقی طور پر جڑے نہیں ہوتے۔

انہوں نے سماجی روابط کو دوبارہ مضبوط بنانے اور خاندانی تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کا آغاز خود انسان اور اس کے خاندان سے ہونا چاہیے، پھر یہ تبدیلی پڑوسیوں، محلے، شہر اور بالآخر پورے ملک تک پہنچ سکتی ہے۔

کربلا کے واقعات سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے عظیم قربانیوں کے باوجود حق اور سچ کے لیے استقامت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اسلام کے تحفظ اور سربلندی کے لیے دی جانے والی قربانیوں اور شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔

مولوی عمران رضا انصاری نے آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی استقامت اور قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ان کی ثابت قدمی اور قربانیوں نے تبدیلی اور ایرانی قوم کے اتحاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر مرحومین، ایران کے شہداء اور میناب اسکول کے سانحے کے شہداء کے لیے بھی دعائے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha