جمعرات 10 ستمبر 2026 - 15:29
حزب اللہ کا سرکاری مؤقف صرف سیکریٹری جنرل اور باضابطہ بیانات کے ذریعے جاری ہوتا ہے

حوزہ/ حزب اللہ کے شعبۂ میڈیا افیئرز نے واضح کیا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر حزب اللہ یا اسلامی مزاحمت سے متعلق غیر رسمی طور پر دیے جانے والے بیانات، معلومات اور تبصرے حزب اللہ کا سرکاری مؤقف نہیں سمجھے جائیں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے شعبۂ میڈیا افیئرز نے واضح کیا ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر حزب اللہ یا اسلامی مزاحمت سے متعلق غیر رسمی طور پر دیے جانے والے بیانات، معلومات اور تبصرے حزب اللہ کا سرکاری مؤقف نہیں سمجھے جائیں گے۔

حزب اللہ کے میڈیا افیئرز نے ایک بیان میں کہا کہ بعض شخصیات اور حزب اللہ کے دوست ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف بیانات، معلومات اور اعداد و شمار پیش کرتے ہیں، جن میں سے بعض کا تعلق حزب اللہ یا اسلامی مزاحمت سے متعلق معاملات اور واقعات سے ہوتا ہے۔ تاہم عوام بعض اوقات ان باتوں کو حزب یا مزاحمت کے سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات سمجھ لیتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نام سے کسی بھی میڈیا یا پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی معلومات اور رائے پیش کرے، لیکن اس کی ذمہ داری بھی اسی شخص پر عائد ہوتی ہے۔ عوام کو چاہیے کہ ایسی معلومات کو سرکاری مؤقف قرار دینے میں احتیاط سے کام لیں۔

حزب اللہ کے میڈیا تعلقات نے مزید وضاحت کی کہ حزب اللہ مختلف واقعات اور حالات کے بارے میں اپنا مؤقف حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل کی تقاریر اور حزب اللہ، اسلامی مزاحمت، شعبۂ میڈیا تعلقات اور وفاداری برائے مزاحمت پارلیمانی بلاک کی جانب سے جاری کیے جانے والے باضابطہ بیانات کے ذریعے پیش کرتی ہے۔

بیان میں زور دے کر کہا گیا کہ اس کے علاوہ کسی بھی شخص کی جانب سے دی جانے والی بات اس کی اپنی رائے اور مؤقف کی عکاسی کرتی ہے، حزب اللہ کے سرکاری مؤقف کی نہیں۔

حزب اللہ کے میڈیا تعلقات نے اپنے بیان کے اختتام پر عوام سے تعاون اور اس معاملے کو سمجھنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس وضاحت کا مقصد خاص طور پر موجودہ حساس اور نازک حالات میں کسی بھی غلط فہمی، ابہام یا غلط تشریح سے بچنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha