جمعہ 11 ستمبر 2026 - 16:21
رسولِ اکرمؐ کو صرف یاد نہ کریں، آپؐ کی سیرت کو اپنی زندگی میں اتاریں: مولانا سید محمد ثقلین نقوی

حوزہ/ مولانا سید محمد ثقلین خطبہ جمعہ میں کہا کہ رسولِ گرامیِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی عظمت و فضیلت کو سب سے بہتر طور پر وہ ہستیاں بیان کر سکتی ہیں جو آپؐ کی علمی و معنوی میراث کی حقیقی امین ہیں؛ ائمۂ اہلِ بیتؑ نے سیرتِ نبویؐ کو ہدایت، اخلاق، علم، اتحاد اور انسانی سعادت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد ثقلین، امام جمعہ و جماعت شیعہ جامع مسجد ضبطی چھپرہ، ضلع کرنال، ہریانہ نے نمازِ جمعہ کے خطبے میں ’’فضیلتِ رسول ائمہ کی نگاہ میں‘‘ کے عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے رسولِ گرامیِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے مقام و منزلت، اخلاق و کمالات اور امت کی رہنمائی میں آپؐ کے کردار کو ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم (ص) کی ذاتِ اقدس کے فضائل و کمالات کا مکمل احاطہ انسانی بیان کے لیے آسان نہیں، تاہم آپؐ کے مقام و مرتبے سے سب سے زیادہ واقف وہ ہستیاں ہیں جو آپؐ کے علوم و معارف کی امین اور آپؐ کی سیرت و تعلیمات کی حقیقی وارث ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین ثقلین نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے فرامین کی روشنی میں رسولِ اکرم (ص) کو ایسا روحانی طبیب قرار دیا جو انسانی معاشرے کی فکری و اخلاقی بیماریوں کے علاج کے لیے مبعوث ہوئے اور لوگوں کو غفلت، حیرت اور گمراہی سے نکال کر ہدایت کی راہ دکھائی۔

انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایات کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی اور آپؐ کو عظیم اخلاق سے نوازا۔ ان کے مطابق، سیرتِ نبویؐ میں علم، اخلاق، رحمت اور انسانی تربیت ایسے بنیادی عناصر ہیں جو آج بھی امت کی فکری و عملی رہنمائی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے رسول اللہ (ص) کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے ہمیشہ اپنی نسبت آپؐ کی عبدیت، اطاعت اور تعلیمات سے جوڑی ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول کلمات اس حقیقت کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ائمۂ اہلِ بیتؑ کے نزدیک رسولِ خدا (ص) کا مقام انتہائی بلند و رفیع ہے اور ان کی اپنی عظمت بھی رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات اور تربیت کے سائے میں ہے۔

خطیبِ جمعہ نے مزید کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی میراث مال و متاع نہیں بلکہ علم، ہدایت اور معارفِ الٰہی ہیں۔ امت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس علمی و اخلاقی میراث کو حاصل کرے اور اسے اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں عملی صورت دے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رسولِ گرامیِ اسلام (ص) صرف ایک تاریخی شخصیت یا مصلح نہیں، بلکہ انسانی ہدایت، اخلاقِ حسنہ، عدل و انصاف اور سعادتِ انسانی کے کامل نمونہ ہیں۔ آپؐ کی سیرت امتِ مسلمہ کو باہمی اتحاد، اخوت، امن و سلامتی اور انسانی اقدار کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمد ثقلین نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں اہلِ ایمان کو تقوائے الٰہی اختیار کرنے، حدودِ شریعت کی پاسداری اور رسول و آلِ رسول علیہم السلام کی سیرت کو عملی زندگی میں اختیار کرنے کی تلقین کی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو رسولِ اکرم (ص) کی تعلیمات سے حقیقی رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد و اخوت کو مضبوط کرنا چاہیے اور سیرتِ نبویؐ کو اپنی اجتماعی زندگی کی بنیاد بنانا چاہیے۔

آخر میں انہوں نے عالمِ اسلام کے اتحاد، اخوت اور امن و سلامتی، عبادات کی قبولیت اور امام زمانہ حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha