منگل 15 ستمبر 2026 - 21:09
معصومۂ قمؑ ، زینبِ ثانیؑ/علم، ولایت، ہجرت اور صبر کی ایک درخشاں داستان

حوزه/حضرت فاطمہ معصومہؑ، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی دختر اور امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ ہیں۔ آپؑ کی تربیت ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں علم، عبادت، تقویٰ اور ولایت زندگی کے بنیادی اصول تھے۔ تاریخی تذکروں اور  معتبر شیعہ مصادر میں  آپؑ کی پرورش اور علمی تربیت کے حوالے سے امام رضاؑ کے زیرِ سایہ رہنے کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت معصومہؑ  قم کی شخصیت کو صرف ایک امام کی بہن یا ایک امام کی بیٹی کے عنوان سے دیکھنا آپؑ کی حقیقی عظمت کو محدود کر دینا ہے۔ آپؑ خود ایک بلند مرتبہ، باعلم اور پاکیزہ شخصیت تھیں۔

تحریر: مولانا سید مبین حیدر رضوی

حوزه نیوز ایجنسی| تاریخِ اسلام کے آسمان پر کچھ خواتین ایسی ہیں جن کی عظمت کو محض رشتۂ نسب، زمانے یا کسی ایک واقعے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کی زندگی کا ہر باب ایمان، معرفت، عفت، صبر، ولایت اور حق سے وابستگی کی ایک مکمل داستان بن جاتا ہے۔ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت فاطمہ معصومۂ قم سلام اللہ علیہا اسی نورانی سلسلے کی دو عظیم شخصیات ہیں۔
حضرت زینبؑ وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے کربلا کے بعد امام حسینؑ کے پیغام کو اپنے خطبات اور کردار کے ذریعے زندہ رکھا، اور حضرت معصومہؑ قم وہ عظیم دخترِ امام موسیٰ کاظمؑ ہیں جن کی ہجرت نے قم کو ایسی روحانی نسبت عطا کی کہ وہ بعد میں علومِ اہلِ بیتؑ کا عالمی مرکز بن گیا۔
اسی معنوی مماثلت کی بنا پر حضرت فاطمہ معصومہؑ کو محبت و عقیدت کی زبان میں "زینبِ ثانی" کہا جاتا ہے۔ یہ تعبیر دونوں کے منصب کو یکساں قرار دینے کے لیے نہیں بلکہ ان کی زندگیوں میں موجود ولایت، صبر، ہجرت، علم، پاکیزگی اور خدمتِ دین کی مشترک جھلکیوں کو بیان کرنے کے لیے ہے۔

خاندانِ عصمت کی ایک درخشاں بیٹی

حضرت فاطمہ معصومہؑ، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی دختر اور امام علی رضا علیہ السلام کی ہمشیرہ ہیں۔ آپؑ کی تربیت ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں علم، عبادت، تقویٰ اور ولایت زندگی کے بنیادی اصول تھے۔ تاریخی تذکروں اور معتبر شیعہ مصادر میں آپؑ کی پرورش اور علمی تربیت کے حوالے سے امام رضاؑ کے زیرِ سایہ رہنے کا ذکر ملتا ہے۔
حضرت معصومہؑ قم کی شخصیت کو صرف ایک امام کی بہن یا ایک امام کی بیٹی کے عنوان سے دیکھنا آپؑ کی حقیقی عظمت کو محدود کر دینا ہے۔ آپؑ خود ایک بلند مرتبہ، باعلم اور پاکیزہ شخصیت تھیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ قم میں ان کے خاندان کی ایک خاتون، فاطمہ بنت موسیٰ، مدفون ہوں گی اور ان کی شفاعت کے ذریعے ان کے شیعہ جنت میں داخل ہوں گے۔
یہ روایت حضرت معصومہؑ کے روحانی مقام کی طرف ایک غیر معمولی اشارہ ہے، کیونکہ اس میں آپؑ کی قم میں آمد سے پہلے ہی آپؑ کی شخصیت اور آپؑ کے مدفن کی عظمت بیان ہوئی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ کے افق پر قم کے لیے ایک نورانی مستقبل پہلے ہی لکھ دیا گیا تھا۔

مدینہ سے قم؛ ایک بامقصد ہجرت

سنہ 200 ہجری کے بعد امام علی رضاؑ کو مأمون عباسی نے مدینہ سے خراسان منتقل کیا۔ اگلے سال حضرت فاطمہ معصومہؑ نے اپنے بھائی سے ملاقات کی غرض سے مدینہ سے خراسان کی طرف سفر اختیار کیا۔یہ سفر بظاہر ایک بہن کی اپنے بھائی سے ملاقات کا سفر تھا، مگر اس کے اندر اہلِ بیتؑ سے گہری وابستگی اور ولایت کی محبت کا جذبہ نمایاں تھا۔ یہی ہجرت حضرت معصومہؑ کی زندگی کا وہ باب ہے جہاں آپؑ اور حضرت زینب کبریٰؑ کے درمیان معنوی مماثلت نمایاں ہوتی ہے۔ حضرت زینبؑ نے مدینہ سے کربلا تک اپنے بھائی امام حسینؑ کا ساتھ دیا، اور حضرت معصومہؑ نے مدینہ سے خراسان تک اپنے بھائی امام رضاؑ کی طرف سفر کیا۔فرق صرف یہ ہے کہ دونوں کے زمانے اور حالات الگ تھے؛ مگر دونوں کی زندگیوں میں بھائی، ولایت اور مقصد سے وفاداری کا رشتہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

شهر ساوہ کا المیہ اور قم کی طرف سفر

حضرت معصومہؑ کا قافلہ جب ساوہ پہنچا تو قافلے پر حمله هوا اور آپؑ کے عزیزوں کو شهید کر دیا گیا ، حضرت معصومہؑ بیمار ہوئیں ۔ ایک معروف روایت کے مطابق قم کے اشعری خاندان کے بزرگ موسی ابن خزرج کو آپؑ کی بیماری کی خبر ملی تو وہ آپؑ کو قم لے جانے کے لیے ساوہ پہنچےاور آپؑ کے استقبال اور قم تک آمد میں نمایاں کردار ادا کیا۔
یہاں سے تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔حضرت معصومہؑ قم پہنچیں؛ اور قم نے ہمیشہ کے لیے اپنے دامن میں ایک ایسی نسبت محفوظ کرلی جس نے اس شہر کی روحانی شناخت بدل دی۔بیت النور؛ میں حضرت معصومہؑ نے قم میں اپنی زندگی کے آخری ایام بسر کیے۔ معروف تاریخی روایت کے مطابق آپؑ تقریباً سولہ یا سترہ دن قم میں مقیم رہیں۔
ایک بیمار مسافرہ، وطن سے دور، بھائی سے جدا، عزیزوں کی جدائی کا صدمہ لیے ہوئے، اجنبی شہر میں اپنے زندگی کے آخری ایام گزار رہی ہے؛ مگر زبان پر شکوہ نہیں، بلکہ دل خدا کی یاد سے آباد ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت معصومہؑ کی شخصیت ہمیں حضرت زینبؑ کی یاد دلاتی ہے۔

حضرت زینبؑ اور حضرت معصومہؑ؛ صبر کی دو تصویریں

کربلا میں حضرت زینبؑ نے وہ کچھ دیکھا جسے دیکھنے کی طاقت پہاڑ بھی نہ رکھتے۔ بھائی شہید، بیٹے شہید، بھتیجے شہید، خیمے جل گئے، اہلِ حرم اسیر ہوئے؛ مگر حضرت زینبؑ کے عزم میں تزلزل نہ آیا ۔حضرت معصومہؑ کی آزمائش کی نوعیت مختلف تھی۔ آپؑ نے کربلا جیسا میدان نہیں دیکھا، مگر ہجرت، جدائی، بیماری، سفر اور اپنے عزیزوں کی جدائی کے بعد قم میں زندگی کے آخری ایام گزارے۔

دونوں کے درمیان مماثلت کو واقعات کی یکسانیت کے بجائے کردار کی یکسانیت میں تلاش کرنا چاہیے۔
حضرت زینبؑ نے مصیبت میں صبر کیا؛ حضرت معصومہؑ نے مصیبت میں صبر کیا۔ حضرت زینبؑ ولایت کے ساتھ کھڑی رہیں؛ حضرت معصومہؑ ولایت کے ساتھ سفر کرتی رہیں۔ حضرت زینبؑ نے حسینؑ کے پیغام کو زندہ رکھا؛ حضرت معصومہؑ کی نسبت نے قم کو علومِ اہلِ بیتؑ کے فروغ کا عظیم مرکز بننے میں روحانی مرکزیت عطا کی۔ حضرت زینب کبریٰؑ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی بے مثال خطابت ہے۔ حضرت معصومہؑ کی خدمت کا انداز مختلف تھا۔ان کے ہاتھ میں خطابت کا میدان نہیں تھا؛ لیکن ان کی زندگی کی عظمت ہجرت، عبادت، ولایت اور روحانی نسبت میں جلوہ گر ہوئی۔زینبؑ کی آواز نے تاریخ کو جھنجھوڑا؛معصومہؑ کی بارگاہ نے نسلوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچا۔ایک نے الفاظ سے انقلاب پیدا کیا، دوسری کی نسبت نے ایک شہر کو علم و معرفت کا مرکز بننے میں مدد دی۔

حضرت معصومہؑ کی عظمت ائمه کی زبانی

حضرت معصومہؑ کی عظمت کا ایک اہم پہلو وہ زیارت ہے جو آپؑ کے لیے منقول ہے۔ امام علی رضاؑ سے منسوب روایت میں سعد سے فرمایا گیا کہ :ان کے پاس قم میں ہماری ایک قبر ہے۔ پھر حضرت فاطمہ بنت موسیٰؑ کی قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ان کی زیارت ان کے حق کی معرفت کے ساتھ کرے، اس کے لیے جنت ہے۔ {علامہ مجلسی . بحار الأنوار، جلد 99، صفحہ 266 ۔}
یہاں "عارفاً بحقها" کے الفاظ خاص توجہ کے مستحق ہیں۔محض زیارت کافی نہیں؛ معرفت ضروری ہے۔معصومہؑ کو پہچاننا دراصل اس خاندان کی معرفت حاصل کرنا ہے جس سے وہ وابستہ ہیں۔ ان کی زیارت انسان کو ولایت، طہارت، عبادت اور اہلِ بیتؑ سے وابستگی کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
حضرت معصومہؑ کے روحانی عظمت کے بارے میں امام محمد تقی جواد علیہ السلام سے بھی ایک معروف روایت نقل ہوئی ہے
مَنْ زَارَ عَمَّتِي بِقُمَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ :یعنی: جو شخص قم میں میری پھوپھی کی زیارت کرے، اس کے لیے جنت ہے۔یہ روایت کامل الزیارات اور بحار الأنوار جیسے مصادر میں نقل ہوئی ہے۔یہ تعبیر حضرت معصومہؑ کے مقام کی ایک واضح عکاسی کرتی ہے۔ ایک امام اپنے خاندان کی ایک خاتون کی زیارت کو اتنی عظیم فضیلت سے تعبیر کر رہے ہیں کہ انسان کو ان کی شخصیت کی عظمت پر غور کرنے کی دعوت ملتی ہے۔

قم؛ حضرت معصومہؑ کی علمی میراث

حضرت معصومہؑ کے وصال حق کے بعد قم کی تاریخ نے ایک نئی سمت اختیار کی۔ ان کی بارگاہ کے گرد رفتہ رفتہ علمی و روحانی سرگرمیاں بڑھتی گئیں اور قم نے عالمِ تشیع میں ایک نمایاں علمی مرکز کی حیثیت اختیار کی۔آج قم دنیا بھر سے علومِ اسلامی کے طلبہ اور علماء کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس شہر کی شناخت میں حرمِ حضرت معصومہؑ مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور آپؑ کی نسبت نے قم کو ایک منفرد روحانی مقام عطا کیا ہے۔یہی حضرت معصومہؑ کی ایک عظیم خدمت کو سمجھنے کا خوب صورت زاویہ ہے۔ آپؑ نے شاید کوئی مدرسہ قائم نہیں کیا، کوئی طویل کتاب تصنیف نہیں فرمائی، لیکن آپؑ کی مقدس بارگاہ کے گرد ایسا علمی ماحول تشکیل پایا جو صدیوں سے جاری ہے۔کبھی کسی شخصیت کی خدمت اس کے لکھے ہوئے صفحات سے ہوتی ہے اور کبھی اس کے وجود کی برکت سے۔

زینبِ ثانی" ایک معنوی تعبیر

حضرت فاطمہ معصومہؑ کو "زینبِ ثانی" کہنا ایک ادبی و عقیدتی تعبیر ہے۔ اسے تاریخی مساوات یا مقام و مرتبے کی عین برابری کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔حضرت زینب کبریٰؑ کا مقام اپنی جگہ منفرد اور بے مثال ہے۔ وہ واقعۂ کربلا کی عظیم ترجمان، امام حسینؑ کی ہمشیرہ اور خاندانِ رسالت کی عظیم ترین خواتین میں سے ہیں۔
حضرت معصومہؑ بھی خاندانِ رسالت کی عظیم خاتون ہیں جنہیں ائمہؑ کی روایات میں غیر معمولی احترام اور زیارت کی فضیلت حاصل ہے۔
دونوں کے درمیان مماثلت ان کے ایمان، ولایت، صبر، پاکیزگی، ہجرت اور حق سے وفاداری میں ہے۔
اس اعتبار سے "زینبِ ثانی" کا عنوان حضرت معصومہؑ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ایک خوب صورت ادبی استعارہ بن جاتا ہے۔

آج کی مسلمان عورت کے لیے پیغام

حضرت زینبؑ اور حضرت معصومہؑ دونوں کی زندگی آج کی مسلمان عورت سے مخاطب ہے۔
وہ کہتی ہیں:علم حاصل کرو، مگر علم کو کردار بناؤ۔حیا اختیار کرو، مگر اسے کمزوری نہ بننے دو۔مصیبت آئے تو ٹوٹو نہیں۔ولایت سے وابستہ رہو۔حق کو پہچانو اور حق کے ساتھ کھڑے رہو۔اور اگر زندگی تمہیں کسی ایسے راستے پر لے جائے جہاں تنہائی، بیماری، جدائی یا مشکلات ہوں تو خدا سے اپنا تعلق کم نہ ہونے دو۔

قم کی خاموش گواہی

قم کی فضاؤں میں آج بھی ایک خاموش داستان سانس لیتی ہے۔
یہ وہی شہر ہے جہاں ایک مسافرہ آئی تھی؛ایک بیمار مسافرہ؛اپنے بھائی سے ملنے کی آرزو لیے ہوئے؛اپنے خاندان کی جدائی کا درد دل میں لیے هوئے؛اور چند ہی دنوں بعد جس نے اسی شہر کو اپنا ابدی مسکن بنا لیا۔مگر تاریخ نے دیکھا کہ وہ مسافرہ معمولی مسافرہ نہیں تھی۔وہ امام موسیٰ کاظمؑ کی بیٹی تھی۔وہ عرب و عجم کے سلطان امام رضا ؑ کی بہن تھی۔وہ اہلِ بیتؑ کے گھر کی تربیت یافتہ خاتون تھی۔وہ فاطمہ معصومہؑ تھی۔اور آج اس کی بارگاہ کے گرد علم کے چراغ روشن ہیں، معرفت کی محفلیں آباد ہیں، دنیا بھر سے زائرین آتے ہیں اور طالبِ علم علومِ آلِ محمدؑ حاصل کرنے کے لیے قم کا رخ کرتے ہیں۔
اگر کربلا کے بعد زینبؑ نے حسینؑ کی آواز کو زندہ رکھا تو قم میں معصومہؑ کی بارگاہ نے اہلِ بیتؑ کی محبت اور علوم کے ایک عظیم مرکز کو نسل در نسل زندہ رکھا۔زینبؑ نے اپنے صبر سے تاریخ کا رخ بدل دیا؛معصومہؑ نے اپنی ہجرت سے قم کی تاریخ بدل دی۔زینبؑ کربلا کی ترجمان بنیں؛معصومہؑ قم کی روحانی شناخت بن گئیں۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ عقیدت مند دل محبت سے کہہ اٹھتے ہیں:
سلام ہو زینبِ کبریٰؑ پر،
سلام ہو معصومۂ قمؑ پر؛
ایک کربلا کی صابرہ،
اور دوسری قم کی کریمہ؛
دونوں ولایت کے آسمان کے روشن ستارے۔

حوالہ جات

1. محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، ج 57، ص 228؛ حضرت معصومہؑ کی قم میں آمد اور قم سے متعلق روایات۔
2. محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، ج 99، ص 265–267؛ زیارتِ حضرت فاطمہ معصومہؑ اور امام رضاؑ سے منقول روایت۔
3. ابن قولویہ، کامل الزیارات، ص 324؛ حضرت معصومہؑ کی زیارت کی فضیلت سے متعلق روایات۔
4. شیخ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ص 98–99؛ زیارت اور فضیلت سے متعلق روایات

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha