تحریر: طوبیٰ نیاز، جامعۃ المصطفیٰ کراچی
حوزه نیوز ایجنسی!
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ
ترجمہ: اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔
(سورۃ البقرۃ: 219)
تمام حمد و ستائش اس خداوندِ متعال کے لیے ہے جس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا اور ہماری ہدایت کے لیے ایسی کتاب نازل فرمائی جو ہمیں زندگی کے اسرار و رموز سے آگاہ کرتی ہے۔ اس کتاب کی تعلیم دینے والے ہادیانِ حق بھی مبعوث فرمائے، جو ہمیں عالمِ ہستی کے یکتا خالق کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ان تمام ظاہری حجتوں کے ساتھ ساتھ انسان کے وجود میں ایک باطنی حجت، یعنی قوتِ تعقل و تفکر بھی ودیعت فرمائی، جس کے ذریعے انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز اور ایک بلند مرتبے کا حامل قرار دیا گیا۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کو انسانیت کے مفہوم اور اس کی حقیقت کی گہرائی تک لے جاتی ہے۔
خداوندِ عالم اپنے کلامِ بلیغ میں متعدد مقامات پر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ دن اور رات کے آنے جانے، پھولوں اور پتوں کے نشوونما پانے، انسانوں کی پیدائش اور موت، سورج کے طلوع و غروب، چاند کی روشنی، ہواؤں کے چلنے، سمندروں کے بہاؤ، صحراؤں کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی، غرض عالمِ رنگ و بو کی ہر چھوٹی بڑی شے کے نظم و ترتیب میں غور و فکر کرے۔ پھر انسان خود سے سوال کرے کہ ایسے منظم اور حکمت پر مبنی نظام کا خالق کیسے بے حکمت ہو سکتا ہے؟
یہی غور و فکر کا راستہ انسان کو اس کی خلقت کے حقیقی مقصد سے آشنا کرتا ہے اور اس کے لیے ابدی سعادت کی راہیں واضح اور روشن کر دیتا ہے۔
فکر کی تعریف
منطقیین کے نزدیک فکر سے مراد مجہولات کو معلومات میں تبدیل کرنے کے لیے انسانی ذہن کی تلاش و جستجو ہے، جو اسے نئی تعریفات اور تصدیقات تک پہنچاتی ہے۔ درحقیقت، یہ ایک صاحبِ فکر انسان ہی ہوتا ہے جو اپنی عقل و فہم کے ذریعے اشیا کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں کو ان کے مفاسد و مصالح سے آگاہ کرتا ہے، تاکہ وہ ان سے مناسب اور درست انداز میں استفادہ کر سکیں۔
اگر اسلامی نقطۂ نظر سے غور و فکر کی اہمیت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی معرفت اور اس کی صفات کی پہچان، نظامِ کائنات میں غور و فکر کے بغیر ممکن نہیں۔ جب تک انسان اس سوال پر غور نہیں کرتا کہ اس کا مبدأ و منشأ کیا ہے، اسے کہاں لوٹ کر جانا ہے اور اسے اس دنیا میں کس مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے، اس وقت تک وہ اپنی خلقت کے حقیقی اہداف سے بے بہرہ رہتا ہے اور ایک بے مقصد زندگی بسر کرتا ہے۔
غور و فکر کے انسانی زندگی پر اثرات
1۔ ہدف شناسی
ایک صاحبِ فکر انسان کا ہر عمل کسی نہ کسی مقصد کے حصول کے لیے ہوتا ہے۔ وہ لغو اور بے ہودہ کاموں میں اپنا قیمتی وقت صرف نہیں کرتا، بلکہ ہر لمحہ اپنے حقیقی ہدف تک رسائی کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے مقصد سے آگاہ ہوتا ہے اور اسی شعور کی روشنی میں اپنے اعمال اور ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔
2۔ دشمن شناسی
ایک صاحبِ فکر انسان اپنے دشمن کو پہچانتا ہے، اسی لیے اسے گمراہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ دشمن کی سازشوں کا شکار ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور اپنے خالق کے ساتھ تعلق کی مضبوطی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا بہترین انداز میں مقابلہ کرتا ہے۔ یوں وہ اپنی فکری بصیرت کے ذریعے کمال کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔
3۔ عبادات میں لذت
جب انسان کسی عمل کی حقیقت اور اس کے مقصد پر غور و فکر کرنے کے بعد اسے انجام دیتا ہے تو وہ عمل اس کے لیے شیریں اور دل نشیں بن جاتا ہے۔ چنانچہ جب ایک صاحبِ فکر انسان اپنے خالق کی عبادت کرتا ہے تو اس کی عبادت محض جنت کی خواہش یا جہنم کے خوف تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس میں اخلاص کا حسن نمایاں ہوتا ہے۔
وہ اپنے خالق کے سامنے اس لیے جھکتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اس کے سوا کوئی اس لائق نہیں کہ جس سے مدد طلب کی جائے یا جسے معبود مانا جائے۔ وہ اپنے حقیقی منعم کو پہچانتا ہے، اسی لیے صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے تمام اعضا و جوارح کے ذریعے بھی اس کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
4۔ افضل ترین عمل
اسلام، جو ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ بعض روایات میں ایک لمحے کی فکر کو طویل عبادت سے افضل قرار دیا گیا ہے؛ کیونکہ صحیح اور عمیق فکر انسان کو حقیقت کی معرفت، عمل کی اصلاح اور کمال کی بلند منازل تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنا قیمتی وقت سوشل میڈیا کے بے جا اور غیر ضروری استعمال میں صرف کر رہے ہیں اور اس بافضیلت عمل، یعنی غور و فکر کی دولت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے آنے والی معلومات اور رجحانات ہمیں جس سمت لے جاتے ہیں، ہم اکثر بغیر سوچے سمجھے اسی سمت چل پڑتے ہیں اور ان کے پسِ پردہ موجود مقاصد اور اثرات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ حالاں کہ ندائے فطرت اور آیاتِ الٰہی مسلسل ہمیں دعوت دے رہی ہیں کہ غور و فکر کریں، حق و باطل میں تمیز کریں اور خود کو گمراہی و ہلاکت سے محفوظ رکھیں۔
دعا ہے کہ خداوندِ متعال، صاحبِ عصر حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے بابرکت وجود کے صدقے، ہمارے اذہان کو نورِ فکر و بصیرت سے منور فرمائے، ہمیں حقائق کو سمجھنے، اپنے حقیقی مقصدِ حیات کو پہچاننے اور دشمن کی سازشوں کو سمجھ کر ان سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔









آپ کا تبصرہ