حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ/ خطبہ جمعہ شاہی آصفی مسجد لکھنؤ میں مکہ معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ مکہ معاہدہ کی حیثیت صرف کاغذی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ غلاموں کے درمیان ہواہ ے جس کی کوئی اہمیت نہیں ۔مولانا نے کہا کہ اگر اسرائیل پاکستان یا ترکیہ پر حملہ کرے تو کیا سعودی عرب معاہدے پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل پر حملہ کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے اشارے پر ہوا ہے جس کو عملی شکل دینا ممکن نہیں۔مولانا نے آگے کہا کہ یہ معاہدہ پہلے ہی دن ختم ہوگیا تھا جب سعودی عرب پر حملے کے بعد ان ملکوں نے کہا کہ یہ پرانا معاملہ ہے اس کا تعلق ہم سے نہیں ۔
مولانا نے سعودی عرب کے ذریعہ مکہ پر حملے کی افواہوں کو پھیلاکر مسلمانوں کے جذبات برانگیختہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ مکہ پر منصوبہ بند سازش کے تحت ڈرون گرایا گیا تاکہ اس کا الزام حوثیوں پر عائد کرکے مسلمانوں کی رائے کو ان کے خلاف کر دیا جائے ۔لیکن سعودی عرب کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا۔مولانا نے کہا کہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کا غلام ہے ۔عرب حکومتوں نے کبھی مسلمانوں کے مفاد میں کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ امت کے مفاد کو ٹھیس پہنچائی ہے ۔
مولانا نے کہا کہ اگر آزادی اور ظلم کے خلاف استقامت کا درس لینا ہے تو ایران سے لینا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ایران آج بھی ظالموں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹا ہو اہے ۔مولانا نے کہا کہ اس وقت امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتیں مسلمانوں میں اختلاف اور انتشار کے لئے کوشاں ہیں لہذا مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ بغیر اتحاد کے کامیابی ممکن نہیں لہذا اپنے اتحاد کی طاقت کو ہرگز کمزور نہ ہونے دیں ۔اگر آج امریکہ ایران میں ناکام ہوا ہے تو اسکی بڑی وجہ ایرانی قوم کا اتحاد ہے ۔ایران میں ظلم کی شکست ہوئی اور مظلومیت کی فتح ہوئی ہے ۔مولانا مزید کہاکہ امریکہ خلیج فارس سے اتنی رسوائی کے ساتھ نکلے گاکہ دوبارہ آنے کی ہمت نہیں ہوگی ۔










آپ کا تبصرہ