ہفتہ 19 ستمبر 2026 - 14:58
معاشرتی ضروریات کے مطابق طلبہ کی تربیت ضروری ہے / تبلیغ محض تقریر کرنا نہیں

حوزہ / حجۃ الاسلام والمسلمین مسعود سلمہ ای نے معاشرتی ضروریات کے مطابق طلبہ کی تربیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: رہبرِ شہید انقلاب کی نظر میں تبلیغ محض تقریر کرنا نہیں بلکہ ’’تبلیغ یعنی زندگی کے متن میں دین کی اقناعی موجودگی‘‘ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزِ تخصصی تبلیغ کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین مسعود سلمہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ تبلیغ طلبہ کی تربیت کے بنیادی ارکان میں شامل ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا: حوزہ علمیہ میں حقیقی تبدیلی اس وقت رونما ہوگی جب طالب علم طلبگی کے ابتدائی برسوں ہی سے خود کو صرف دینی متون اور علمی مباحث کا طالب علم نہ سمجھے بلکہ اسے معاشرے کی فکری و معنوی رہنمائی، لوگوں کو قائل کرنے، ان سے مؤثر رابطہ قائم کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے تربیت دی جائے۔

مرکزِ تخصصی تبلیغ کے مدیر نے مزید کہا: طلبہ کی تربیت کے بنیادی ارکان میں سے ایک ’’مبلغ کی تربیت‘‘ ہونی چاہیے۔ قرآن کریم مبلغِ دین کے مقام کو بخوبی بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: «وَ مَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَی اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ»؛ ’’اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف دعوت دے، نیک عمل کرے اور کہے کہ بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: طالب علم کو طلبگی کے ابتدائی برسوں ہی سے یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کا مقصد صرف علم حاصل کرنا، دینی متون کو جاننا اور علمی مباحث سیکھنا نہیں بلکہ اسے مخاطب کی رہنمائی اور اسے قائل کرنے، لوگوں سے مؤثر رابطہ قائم کرنے اور معاشرے کے فکری و معنوی مسائل کے حل کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

معاشرتی ضروریات کے مطابق طلبہ کی تربیت ضرورتی ہے / تبلیغ محض تقریر کرنا نہیں

حجۃ الاسلام مسعود سلمہ ای نے کہا: جو طالب علم صرف فقہی اور کلامی معلومات یاد کرنے پر توجہ دے، وہ معاشرے کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔ اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مخاطب کو درست طور پر پہچانے، نئی نسل کی زبان کو سمجھے، شبہات کی شناخت کرے، معاشرتی مسائل سے آگاہ ہو اور دینی متون سے حاصل کیے گئے دین کے پیغام کو مخاطب کے حالات اور ضروریات کے مطابق اس تک پہنچانے کی صلاحیت پیدا کرے۔

مرکزِ تخصصی تبلیغ کے مدیر نے مزید کہا: آج کا طالب علم ایک ایسی نسل سے روبرو ہے جو اپنے سوالات اور شبہات اسکول، یونیورسٹی، سوشل میڈیا اور سائبر اسپیس میں پیش کرتی ہے۔ یہ سوالات اس کے ذہن کو مختلف مسائل میں الجھائے رکھتے ہیں۔ اگر طالب علم اس میدان میں فکری، اخلاقی اور معنوی طور پر موجود نہ ہو اور ان مسائل کا جواب دینے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو یہ میدان نظام اور انقلاب کے دشمنوں کے اختیار میں چلا جائے گا اور وہ لوگوں کے اذہان کو اپنی طرف مائل کرسکتے ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے پہلے لوگوں اور ان کے مسائل کو سمجھنا، ان کی زبان کو دریافت کرنا اور پھر دین کے اعتبار سے ان سے گفتگو کرنا ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha