جمعرات 24 ستمبر 2026 - 14:33
ہندوستان اور ایران میں آیوروید و ایرانی طب سنتی کے شعبے میں باہمی تعاون کا معاہدہ

حوزہ/ ایران اور ہندوستان نے روایتی طب کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ تہران میں ہندوستانی سفارتخانے کی جانب سے منعقدہ قومی آیوروید ڈے کی تقریب میں دونوں ممالک کے مشترکہ طبی ورثے، تحقیق اور روایتی طریقۂ علاج میں باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں ہندوستانی سفارتخانے نے ’’صحت مند مستقبل کے لیے آیوروید‘‘ کے عنوان سے قومی آیوروید ڈے کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں سفارت کاروں، ڈاکٹروں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور روایتی طب سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

ایران میں ہندوستان کے سفیر وشویش نیگی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیوروید ڈے منانے کا مقصد ہندوستان کے قدیم طبی نظام آیوروید سے دنیا کو آگاہ کرنا اور صحت کے فروغ میں اس کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی حکومت نے 2016ء میں آیوروید ڈے منانے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کا مقصد بیماریوں سے بچاؤ، صحت مند طرزِ زندگی اور قدرتی طریقۂ علاج کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ہندوستانی سفیر نے ایران اور ہندوستان کے درمیان روایتی طب کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی وزارتِ آیوش اور ایران کی وزارتِ صحت و طبی تعلیم کے درمیان مفاہمتی یادداشت طے پا چکی ہے۔ اس کا مقصد جڑی بوٹیوں، روایتی علاج اور دونوں ممالک کے مشترکہ طبی ورثے سے متعلق شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے

وشویش نیگی نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران آیوروید کے شعبے میں نمایاں اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق آیوروید سے وابستہ معیشت 2014ء میں 2.85 ارب ڈالر تھی، جو 2023ء میں بڑھ کر 43.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

انہوں نے جولائی 2026ء میں نیتی آیوگ کی جانب سے جاری کیے گئے ’’آیوروید کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے اسٹریٹجک روڈ میپ‘‘ کا بھی حوالہ دیا۔ اس منصوبے میں تحقیق، تعلیم، بین الاقوامی تعاون اور معیار کے شعبوں میں آیوروید کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران میں اٹلی کی سفیر پاؤلا آمادئی نے ہندوستان کے اپنے دوروں کے تجربات بیان کیے اور ہندوستان کی ثقافت اور روایتی طبی ورثے، بالخصوص آیوروید، پر گفتگو کی۔

فارسی طب کے ماہر ڈاکٹر علی رضا یارغولی نے فارسی طب اور آیوروید کے درمیان تاریخی اور نظریاتی مماثلتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے دونوں طبی نظاموں کے درمیان تاریخی روابط، مشترکہ تصورات، تحقیق اور مستقبل میں تعاون کے امکانات کا جائزہ پیش کیا۔

ایرانی وزارتِ صحت و طبی تعلیم کے مرکز برائے ایرانی و تکمیلی طب کے بین الاقوامی امور کے مشیر ڈاکٹر ارمان زرگران نے بھی ایران اور ہندوستان کے درمیان روایتی طب کے شعبے میں تعاون پر گفتگو کی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت اور جاری مشترکہ سرگرمیوں کا ذکر کیا۔

ڈاکٹر سہراب دہقان نے ہندوستان میں آیوروید کے حوالے سے اپنی تعلیم اور مطالعات، اس نظامِ طب کے بنیادی اصولوں اور اپنے تجربات بیان کیے۔

مقررین نے واضح کیا کہ آیوروید کو جدید طب کے متبادل یا اس کی مخالفت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے روایتی طبی نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس میں بیماریوں سے بچاؤ، روزمرہ زندگی کے معمولات، نظامِ ہاضمہ، نیند اور جسم و ذہن کے درمیان توازن پر توجہ دی جاتی ہے۔

آیوروید سنسکرت کے دو الفاظ ’’آیور‘‘ اور ’’وید‘‘ سے بنا ہے، جن کے معنی بالترتیب ’’زندگی‘‘ اور ’’علم‘‘ کے ہیں۔ یہ ہندوستان میں ہزاروں سال پہلے پروان چڑھنے والا روایتی طبی نظام ہے، جس کا مقصد صحت مند افراد کی صحت کو برقرار رکھنا اور بیماریوں سے نجات کے لیے علاج فراہم کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha