حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمِ باعمل، مخلص مبلغ و مربی مولانا سلمان حیدر کے انتقال پر عارف مبارک پوری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی علمی، تبلیغی، تدریسی اور تربیتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تعزیتی پیغام میں مرحوم کی زندگی کو تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کی نشر و اشاعت، دینی تعلیم و تربیت اور نسلِ نو کی فکری و اخلاقی پرورش کے لیے وقف قرار دیا گیا ہے۔
مولانا سلمان حیدر کی وفات پر عارف مبارک پوری کی جانب سے جاری کیے گئے تعزیتی پیغام کا مکمل متن پیش خدمت ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
إِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَيْهِ راجِعُونَ
عالمِ باعمل، مخلص مبلغ و مربی، مولانا سلمان حیدر کے انتقالِ پُرملال کی خبر سن کر دل انتہائی رنجیدہ اور غمگین ہے۔ مرحوم کی وفات یقیناً ایک ایسی علمی و تبلیغی شخصیت سے محرومی ہے جس کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔
مولانا مرحوم نہایت مخلص، بااخلاق، علم دوست اور خدمتِ دین کے جذبے سے سرشار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کی نشر و اشاعت، دینی تعلیم و تربیت اور نسلِ نو کی فکری و اخلاقی پرورش میں صرف کیا۔ میدانِ تبلیغ میں ان کی خدمات نہایت گراں قدر اور قابلِ تحسین ہیں، جن کے اثرات ایک طویل عرصے تک باقی رہیں گے۔
مرحوم کو تعلیم و تعلم سے غیر معمولی شغف تھا۔ تدریس کے میدان میں انہوں نے نہ صرف علم کی شمع روشن رکھی بلکہ سیکڑوں تشنگانِ علم کی تربیت فرمائی اور انہیں علم، اخلاق اور دینی شعور سے آراستہ کیا۔ ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی ان کی علمی و تربیتی محنت کی زندہ یادگار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک استاد کی حقیقی میراث اس کے شاگرد ہوتے ہیں، اور اس اعتبار سے مولانا مرحوم نے اپنے پیچھے ایک قابلِ قدر علمی و تربیتی سرمایہ چھوڑا ہے۔
مدرسہ علمیہ کا قیام بھی مرحوم کی علم دوستی، دوراندیشی اور خدمتِ دین کے جذبے کی روشن مثال ہے۔ یہ ادارہ محض ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ ان کے خواب، اخلاص اور مسلسل جدوجہد کی عملی تعبیر ہے۔ امید ہے کہ یہ علمی شمع آئندہ نسلوں تک روشن رہے گی اور مولانا مرحوم کے لیے صدقۂ جاریہ کا ذریعہ بنتی رہے گی۔
مولانا سلمان حیدر مرحوم کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جو انسان اپنی زندگی کو علم، دین، تعلیم، تربیت اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیتا ہے، اس کا وجود جسمانی حیات کے خاتمے کے بعد بھی اس کے شاگردوں، اداروں اور خدمات کی صورت میں زندہ رہتا ہے۔
بارگاہِ خداوند متعال میں دست بہ دعا ہیں کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی تمام علمی، تبلیغی اور تربیتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، انہیں جوارِ ائمۂ معصومینؑ میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، درجاتِ آخرت کو بلند فرمائے اور ان کے علمی و دینی مشن کو ان کے بعد بھی جاری و ساری رکھے۔
پروردگارِ عالم جملہ پسماندگان، متعلقین، شاگردوں اور بالخصوص خانوادۂ محترم کو اس جانکاہ صدمے پر صبرِ جمیل، اجرِ جزیل اور حوصلۂ فراواں عطا فرمائے اور مرحوم کے علمی و دینی آثار کو ان کے لیے ہمیشہ باعثِ خیر و برکت قرار دے۔









آپ کا تبصرہ