حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسلمانوں اور وہابی مکتبِ فکر کے درمیان جن مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں سوگواری اور عزاداری بھی شامل ہے۔ وہابی علماء اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اپنے فرزند حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر گریہ کرنے کی روایات کی بنیاد پر میت کے غم میں رونے اور آنسو بہانے کو جائز مانتے ہیں، تاہم اجتماعی طور پر عزاداری اور سوگواری کی مجالس کے انعقاد کو بدعت قرار دیتے ہیں۔
تاریخی اور روایی شواہد کا مطالعہ کیا جائے تو صدر اسلام میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اور تابعین نے وفات کے مواقع پر گریہ و زاری، مرثیہ خوانی اور اجتماعی طور پر اظہارِ غم کیا۔ یہ واقعات اس دور کے معاشرتی اور مذہبی طرزِ عمل کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حضرت ابراہیم کی وفات پر گریہ
صحیح بخاری میں انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات کے وقت ان کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابراہیم کو گود میں لیا، انہیں بوسہ دیا اور استشمام کیا۔ جب حضرت ابراہیم کی حالت نازک ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابن عوف! یہ رحمت ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، لیکن ہم وہی بات کہتے ہیں جس سے ہمارا پروردگار راضی ہو۔ پھر حضرت ابراہیم سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی پر یقیناً غمگین ہیں۔‘‘
اس روایت سے کم از کم یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی عزیز کی وفات پر دل کا غمگین ہونا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہونا اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں۔
رحلتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صحابہ کا اجتماعی گریہ
صدر اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کا واقعہ بھی اس حوالے سے قابلِ توجہ ہے۔ ابن کثیر نے اپنی کتاب البدایۃ والنہایۃ میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اہلِ مدینہ کے شدید غم اور گریہ و زاری کا ذکر ملتا ہے۔
حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے موقع پر لوگ جمع تھے، سو نہیں رہے تھے اور غم کے باعث رو رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت سے جو تسلی انہیں ملتی تھی، وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد ختم ہوگئی تھی۔
روایت میں آتا ہے کہ سحر کے وقت لوگوں کی آوازیں سنائی دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی خبر کے بعد گریہ و زاری کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا۔ مدینہ کا ماحول غم و اندوہ سے بھر گیا۔
اسی روایت میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے اذان دینے کا بھی ذکر ہے۔ جب وہ اذان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام مبارک لینے کے مقام پر پہنچے تو شدتِ غم سے گریہ کرنے لگے اور ان پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ ان کے گریہ و نالہ سے موجود لوگوں کا غم مزید بڑھ گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت صحابہ کے لیے اتنی بڑی مصیبت تھی کہ بعد میں پیش آنے والی دیگر مصیبتوں کو بھی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی مصیبت کے مقابلے میں آسان سمجھتے تھے۔
صدر اسلام کی روایات سے حاصل ہونے والا نتیجہ
مذکورہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ غم، گریہ اور کسی عظیم شخصیت یا عزیز کی وفات پر اجتماعی طور پر اظہارِ افسوس کا تصور صدر اسلام میں موجود تھا۔ البتہ عزاداری کی مختلف صورتوں کے شرعی احکام کا تعین ان کے جداگانہ فقہی اصولوں کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔
اس لیے کسی خاص طریقۂ عزاداری کے بارے میں شرعی حکم کو پوری عزاداری اور اظہارِ غم کے اصل تصور سے الگ کرکے دیکھنا ضروری ہے۔ تاریخی روایات کم از کم اس امر کی شہادت دیتی ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے درمیان وفات پر گریہ اور اجتماعی طور پر غم کا اظہار ایک معروف عمل تھا۔
حوالہ:
[۱] انس بن مالک سے روایت ہے:
«عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ، وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ، ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى فَقَالَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ».
محمد بن اسماعیل بخاری، صحیح بخاری، کتاب الجنائز، دارالمعرفۃ، بیروت، ج ۱، ص ۲۲۶۔
[۲] حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے موقع پر صحابہ کے اجتماع، گریہ و زاری اور شدید غم کا ذکر ہے۔ روایت کے الفاظ ہیں:
«عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: بَيْنَا نَحْنُ مُجْتَمِعُونَ نَبْكِي، لَمْ نَنَمْ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بُيُوتِنَا، وَنَحْنُ نَتَسَلَّى بِرُؤْيَتِهِ عَلَى السَّرِيرِ، إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ الْكَرَازِينَ فِي السَّحَرِ...»
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اہلِ مدینہ کے شدید غم، گریہ و زاری اور حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے اذان دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام مبارک آنے پر شدتِ غم سے گریہ کرنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
اسماعیل بن عمر ابن کثیر دمشقی، البدایۃ والنہایۃ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ج ۵، ص ۲۳۷۔










آپ کا تبصرہ