حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کندرکی سادات/ حوزۂ علمیہ نجف اشرف، عراق میں پانچ سال تک دینی علوم کی تحصیل اور علمی مراحل طے کرنے کے بعد مولانا سید افضل مہدی صاحب کی اپنے وطن واپسی پر مدرسہ سیدنا ابوطالب علیہ السلام، کندرکی سادات میں پُرتپاک استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر مدرسے کے طلبہ، مولانا سید آفاق عالم زیدی، امامِ جمعہ کندرکی سادات، اور مقامی مؤمنین نے مولانا کا خیرمقدم کیا۔
16 اکتوبر، بروز جمعہ، منعقدہ اس استقبالیہ موقع پر خوشی اور مسرت کا ماحول دیکھنے میں آیا۔ پانچ سال تک اپنے اہلِ خانہ، وطن اور مانوس ماحول سے دور رہ کر علمِ دین حاصل کرنا یقیناً محنت، صبر، استقامت اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ مولانا سید افضل مہدی صاحب نے حوزۂ علمیہ نجف اشرف میں قیام کے دوران دینی تعلیم حاصل کی اور اب اپنے وطن واپس لوٹے ہیں، جہاں ان سے دینی و مذہبی خدمات کی توقعات وابستہ ہیں۔
نجف اشرف، جو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے جوارِ مبارک میں واقع ہے، علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تحصیل کا ایک اہم علمی مرکز ہے۔ یہاں گزارے گئے ایام ایک طالبِ علم کی علمی و فکری تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے علمی سفر کے بعد وطن واپسی محض ایک فرد کی واپسی نہیں، بلکہ اس امید کی واپسی بھی ہے کہ حاصل کردہ علم اور تجربات کو معاشرے کی دینی و اخلاقی رہنمائی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔
دینی تعلیم کے حصول کے لیے اپنے وطن سے دور رہنا آسان نہیں ہوتا۔ طویل عرصے تک اپنوں سے جدائی، اجنبی ماحول میں زندگی اور مسلسل علمی مشغولیات کے باوجود اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنا ایک طالبِ علم کے عزم و حوصلے کا امتحان ہوتا ہے۔ پانچ سالہ اس سفر کے بعد مولانا سید افضل مہدی صاحب کی وطن واپسی اہلِ علاقہ کے لیے خوشی کا باعث ہے، ساتھ ہی یہ موقع اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ معاشرے میں علماء اور دینی تعلیم حاصل کرنے والے افراد کی موجودگی کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔
کسی بھی علاقے کے عوام اپنے دینی مسائل کے حل، شرعی احکام کی آگاہی، تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت اور نئی نسل کی دینی تربیت کے لیے علماء کی طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں دینی تعلیم مکمل کرکے وطن واپس آنے والے علماء سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اخلاص، احساسِ ذمہ داری اور خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو عوام کی دینی ضروریات پوری کرنے کے لیے وقف کریں، لوگوں کی شرعی و اخلاقی رہنمائی کریں اور معاشرے میں دینی شعور کو فروغ دیں۔
مدرسہ سیدنا ابوطالب علیہ السلام میں استقبال کے بعد مولانا سید افضل مہدی صاحب نے خطاب بھی کیا، جس میں انہوں نے مدرسے کے طلبہ کو علمِ دین کے ساتھ دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کی بھی ترغیب دلائی۔ ان کی گفتگو کا اہم پیغام یہ تھا کہ طلبہ تعلیم کے میدان میں محنت، لگن اور سنجیدگی کو اپنا شعار بنائیں اور اپنے علمی سفر کو مقصدیت کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
مولانا کی وطن واپسی اور مدرسے میں ان کا استقبال اس امید کی علامت ہے کہ علمِ دین حاصل کرنے کے بعد نئی نسل کے رہنما اپنے علاقوں میں دینی تعلیم و تربیت کے فروغ، تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام کی ترویج اور عوام کی دینی رہنمائی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرہ بھی ایسے علماء کی قدر کرے، ان کی علمی و دینی خدمات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے اور نئی نسل کو علم حاصل کرنے کی ترغیب دے۔
مدرسہ سیدنا ابوطالب علیہ السلام، کندرکی سادات کی جانب سے مولانا سید افضل مہدی صاحب کا استقبال اسی دینی وابستگی اور علمی سفر کی قدر افزائی کا مظہر ہے، جو اس امید کو تقویت دیتا ہے کہ علم و معرفت کا یہ سفر وطن اور ملت کی خدمت کے ذریعے مزید ثمرآور ثابت ہوگا۔










آپ کا تبصرہ