حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اصفہان کے امام جمعہ آیت اللہ سید ابوالحسن مہدوی نے کہا ہے کہ واقعہ کربلا میں اہل بیت علیہم السلام کی تمام اعلیٰ صفات نمایاں ہوئیں۔ جان کی قربانی، مصیبتوں پر صبر اور سخت ترین حالات میں عبادت، ان صفات کی نمایاں مثالیں ہیں۔
اصفہان میں مؤسسہ اہل بیتؑ میں اربعین کے موقع پر موکب کا اہتمام کرنے والوں کی قدردانی کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ مہدوی نے کہا کہ کربلا کو خصوصی اہمیت حاصل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس سرزمین پر انسان کی اعلیٰ صفات ایک ساتھ نمایاں ہوئیں۔ امام حسین علیہ السلام کی زیارت پر خصوصی تاکید کا مطلب یہ نہیں کہ آپؑ کا مقام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے بلند ہے، بلکہ اس کی وجہ واقعہ کربلا میں انسانی کمالات کا غیر معمولی طور پر ظاہر ہونا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام ائمہ معصومین علیہم السلام الٰہی صفات اور کمالات کے حامل ہیں۔ اگر انسان زندگی میں کمال حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے کامل انسانوں کی سیرت کو اپنے لیے نمونہ بنانا چاہیے۔ اس اعتبار سے کربلا ایک غیر معمولی مقام رکھتی ہے۔
آیت اللہ مہدوی نے واقعہ عاشورا میں ایثار و قربانی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کربلا میں جان کی قربانی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ قرآن مجید کی سورۂ توبہ کی آیت 111 اور سورۂ بقرہ کی آیت 207 میں بھی جان و مال کی قربانی کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عاشوراء کے دن شدید مصائب کے باوجود عبادت کا اہتمام، خصوصاً نماز جماعت کا قیام، اہل بیتؑ کی بندگی اور ثابت قدمی کی روشن مثال ہے۔ واقعہ کربلا پر غور کرنے سے انسان ایثار، صبر اور عبادت کے اعلیٰ نمونے سیکھ سکتا ہے۔
انہوں نے سورۂ توبہ کی آیت 119 میں صادقین کے ساتھ رہنے کی قرآنی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کربلا میں اہل بیتؑ کی سیرت اور تعلیمات کے متعدد نمونے ملتے ہیں، جن سے انسان راہِ کمال کو پہچان سکتا ہے۔
آیت اللہ مہدوی نے آخر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ان معارف سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و علم کی معرفت اور بندگی کے راستے پر آگے بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔










آپ کا تبصرہ