جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 23:21
اسلام میں داڑھی رکھنا اطاعتِ الٰہی اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ پر عمل کا حصہ ہے: مولانا سید ضیاء عباس نقوی

حوزہ/ امامِ جمعہ حسینی امام بارگاہ وڈودرا، مولانا سید ضیاء عباس نقوی نے خطبۂ جمعہ میں نوجوانوں سمیت تمام مؤمنین کو اسلامی احکام کی پابندی اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ پر عمل کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ داڑھی رکھنا اطاعتِ الٰہی کا حصہ ہے اور فقہِ جعفریہ کے مطابق، احتیاطِ واجب کی بنا پر داڑھی مکمل طور پر مونڈنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وڈودرا-گجرات/ امامِ جمعہ حسینی امام بارگاہ، وڈودرا، مولانا سید ضیاء عباس نقوی نے خطبۂ جمعہ میں دینی احکام کی پابندی، اسلامی تعلیمات پر عمل اور نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر زور دیا۔ انہوں نے مردوں کے لیے داڑھی رکھنے کی شرعی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ فقہِ جعفریہ کے مطابق داڑھی کو مکمل طور پر مونڈنا جائز نہیں ہے اور احتیاطِ واجب کی بنا پر اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

مولانا سید ضیاء عباس نقوی نے اپنے خطبے میں داڑھی رکھنے کو اسلامی احکام کی پیروی اور تعلیماتِ اہلِ بیت علیہم السلام پر عمل کا ایک اہم حصہ قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں سمیت تمام مؤمنین کو تاکید کی کہ وہ اپنی ظاہری وضع قطع اور روزمرہ زندگی میں اسلامی تعلیمات کا لحاظ رکھیں اور شرعی احکام کی پابندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

انہوں نے داڑھی کے شرعی حکم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ داڑھی اس حد تک ہونی چاہیے کہ عرفِ عام میں اسے داڑھی کہا جا سکے۔ اسے غیر معمولی طور پر لمبا رکھنا ضروری نہیں، بلکہ مناسب تراش خراش کے ذریعے صاف ستھرا اور مرتب رکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مونچھوں کی صفائی اور مناسب تراش خراش کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

مولانا سید ضیاء عباس نقوی نے مزید کہا کہ داڑھی رکھنے کا مقصد محض ظاہری وضع قطع اختیار کرنا یا دوسروں پر برتری جتانا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کا حصول ہونا چاہیے۔ دینی احکام پر عمل کے ساتھ اخلاصِ نیت، تواضع اور حسنِ اخلاق کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔

انہوں نے تاکید کی کہ اسلامی تعلیمات پر عمل انسان کے ظاہری حلیے تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے کردار، گفتار اور روزمرہ معاملات میں بھی دین داری نمایاں ہونی چاہیے۔ حقیقی دینی زندگی وہ ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کے ساتھ اچھے اخلاق اور ذمہ دارانہ رویے کو بھی اپنائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha