حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے ایک اسلامی ملک کے مدارس میں طالبات اور معلمات کے لیے حجاب پر پابندی سے متعلق استفتاء کا جواب دیا ہے۔
سوال:
اگر کسی اسلامی ملک میں لڑکیوں کے مدارس میں مخصوص یونیفارم پہننا لازمی قرار دے دیا جائے اور باحجاب طالبات کو مدارس میں داخل ہونے سے روک دیا جائے، اسی طرح باحجاب معلمات کو حجاب کے ساتھ مدرسے آنے اور تدریس کرنے کی اجازت نہ دی جائے، جس کے نتیجے میں انہیں قابلِ ذکر نقصان یا شدید دشواری اور مشقت کا سامنا کرنا پڑے، تو ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟
کیا ان خواتین کا حکم ان مسلمان خواتین جیسا ہے جنہیں غیر اسلامی ممالک میں مدارس کے اندر حجاب کی پابندی کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ یعنی وہ حتی الامکان اپنے شرعی حجاب کی حفاظت کریں، مثلاً ٹوپی کے ذریعے سر کے زیادہ تر بال ڈھانپیں اور مکمل گلے والے لباس سے گردن کو ایک مقدار تک چھپائیں اور صرف ضرورت کی حد تک حجاب کے احکام پر عمل سے گریز کریں؟ یا اس معاملے میں کوئی فرق ہے؟
جواب:
اگر حجاب ترک کرنے کے لیے دباؤ قبول کرنے کے نتیجے میں معاشرے پر منفی اور وسیع اثرات مرتب ہوتے ہوں تو محض ذاتی ضرورت اس دباؤ کو قبول کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ بالخصوص اگر اس اقدام سے معاشرے کی ثقافتی شناخت کو شدید نقصان پہنچتا ہو اور حکام کو اسلامی روایات ختم کرنے کی کوششوں میں مزید جری ہونے اور اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا حوصلہ ملتا ہو۔ لہٰذا ان سماجی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ و الی اللہ المشتکی










آپ کا تبصرہ