حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے سیکریٹری آیت اللہ شب زندہ دار نے مسجدِ اعظم میں درسِ خارجِ فقہ کے آغاز پر جمہوریہ آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں باحجاب طالبات پر پابندی عائد کرنے اور خواتین کو بے حجاب کرنے کے اقدامات پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے کہ آذربائیجان کے حکام بیدار ہوں گے اور اپنے ملک کی باحجاب خواتین پر ڈھائے جانے والے اس کھلے ظلم سے باز آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: بعض اسلامی ممالک نے کفار اور اسلام دشمن عناصر کی پیروی کرتے ہوئے، حتیٰ کہ پرائمری اور ہائی اسکولوں میں زیرِ تعلیم طالبات کے لیے بھی حجاب پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ وہ حجاب جیسے احکامِ الٰہی کو پامال کر رہے ہیں، حالانکہ اس کا ذکر قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ اس طرح وہ ان طالبات کو تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرنا چاہتی ہیں۔
حوزہ علمیہ ایران کی سپریم کونسل کے سیکریٹری نے کہا: تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ بے حجابی اور فحاشی معاشرے اور نوجوان نسل کو تباہی اور فساد کی طرف لے جاتی ہے اور ترقی و کمال کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔
آیت اللہ شب زندہ دار نے مزید کہا: جن ممالک نے ان امور کو اہمیت نہیں دی، وہ آج سنگین مسائل اور تباہ کن حالات میں گرفتار ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے: «وَ مَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْری فَإِنَّ لَهُ مَعیشَةً ضَنْکاً» ’’اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کے لیے یقیناً تنگ زندگی ہوگی۔(سورۂ طٰہٰ، آیت 124)
انہوں نے کہا: امید ہے کہ آذربائیجان کے حکام بھی بیدار ہوں گے اور اپنے ملک کی باحجاب خواتین پر ڈھائے جانے والے اس کھلے ظلم سے باز آئیں گے۔










آپ کا تبصرہ