اتوار 18 اکتوبر 2026 - 06:14
خواتین اور بچیوں سے شرعی حق نہ چھینا جائے اور انہیں بنیادی حقوق سے محروم نہ کریں

حوزہ / آیت اللہ علی رضا اعرافی نے جمہوریہ آذربائیجان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسلمان خواتین اور بچیوں سے حجاب کا شرعی حق نہ چھینیں اور انہیں تعلیم، تدریس اور علمی و سماجی سرگرمیوں میں شرکت جیسے بنیادی حقوق سے محروم نہ کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیرِ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے جمہوریہ آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے ردعمل میں ایک پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے حجاب کی شرعی حیثیت اور مسلمان خواتین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ان کے اس پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حجاب اور لباس کا مسئلہ، بالخصوص اسلام میں محترم خواتین کے لباس کا معاملہ، مقدس دینِ اسلام، اسلامی طرزِ زندگی اور اصیل اسلامی روایات میں ہمیشہ سے ایک شرعی فریضہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر شرعی واجبات کو سرکاری احکامات، انتظامی ہدایات اور انسانی وضع کردہ قوانین کے ذریعہ ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ان کے شرعی وجوب کو مسلمانوں سے ساقط کیا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، مکتبِ اسلام کے اعتقادی نظام میں حجاب مسلمان عورت کے ایمان، عفت اور دینی شناخت کا مظہر ہے، جو مؤمن خواتین کے عقیدے اور ان کے شعوری انتخاب سے جنم لیتا ہے۔ کوئی بھی مسلم ملک یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی معاشرتی زندگی میں خواتین اور بچیوں سے ان کا یہ شرعی حق چھین لے اور انسانی حقوق اور کرامتِ انسانی کے منافی اقدام کرتے ہوئے انہیں تعلیم حاصل کرنے، تدریس اور علمی و سماجی میدانوں میں شرکت جیسے حقوق سے محروم کرے۔

اللہ تعالیٰ سورۂ نور کی آیت 31 میں ارشاد فرماتا ہے: «وَ قُلْ لِلْمُؤْمِناتِ یغْضُضْنَ مِنْ أَبْصارِهِنَّ وَ یحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَ لا یبْدِینَ زِینَتَهُنَّ إِلاَّ ما ظَهَرَ مِنْها وَ لْیضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلی جُیوبِهِنَّ...؛ ’’اور مؤمن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں۔۔۔‘‘

اس نورانی آیت کی روشنی میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نامحرموں سے اپنے سر اور گردن کو ڈھانپیں اور اسلامی حجاب کی پابندی کریں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سرکاری احکامات اور انسانی وضع کردہ قوانین کے ذریعہ قرآنِ کریم کے صریح حکم کی خلاف ورزی کرے۔

جمہوریہ آذربائیجان میں حجاب کا مسئلہ بھی اسی نوعیت کا ہے، جہاں حالیہ عرصے میں حکومتی حلقوں اور بعض اداروں کی جانب سے معزز معلمات اور طالبات کے لیے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس ملک کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے، اس لیے حکام اور متعلقہ ذمہ داران سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس مسلمان اور دین دار سرزمین کی طالبات اور معلمات کے شرعی مطالبات کا احترام کریں۔

یہ مطالبات قرآنِ کریم اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ حکام کو چاہیے کہ وہ عوام کے دینی تشخص اور مذہبی مطالبات کو مجروح ہونے سے بچائیں اور مسلمان خواتین کو ان کے شرعی حقوق کے مطابق زندگی گزارنے کا حق دیں۔

مدیرِ حوزہ علمیہ ایران

علی رضا اعرافی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha