حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری بریگیڈیر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای سے ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل اور اس کے سیکریٹریٹ کو ملکی امور کی "تدبیر کا چوراہا" قرار دیا اور ثقافت، سیاست، معیشت اور سلامتی جیسے چار میدانوں کے ایک دوسرے پر اثر اور ہر میدان میں فیصلوں کے لیے لازمی ضمیموں پر توجہ کی ضرورت پر زور دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ہر اقدام کے آغاز سے اختتام تک اس کی مکمل تصویر پر مبنی روڈ میپ سے استفادے کو مستحکم اور ٹھوس فیصلے کرنے کے لیے ضروری قرار دیا۔
قومی اتحاد و یکجہتی اور عوام و حکام کے درمیان باہمی اعتماد کی تقویت، ملک کے مسائل کے حل کو آسان اور تیز بنانے کے مقصد سے صدر اور انتظامی اداروں کی مدد کے لیے آئین، خصوصاً اس کی دفعہ 176 سے استفادہ، آبنائے ہرمز کے مینجمنٹ کے ذریعے قومی اور علاقائی سلامتی کی حفاظت اور پائیدار و باہمی مفادات کی بنیاد پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کا استحکام، اس ملاقات میں زیر بحث آنے والے دیگر اہم موضوعات تھے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن کے بے دست و پا ہو جانے کو قومی استقامت کے نتائج میں سے ایک قرار دیا اور ملک و نظام کے دفاع میں عوام کی مسلسل شرکت باقی رکھنے کے لیے فعال اور بروقت اطلاع رسانی پر زور دیا۔ انھوں نے جنگ اور "نہ جنگ، نہ امن" کی صورت حال کے خاتمے کے مقصد سے ملک کے حکام کی جانب سے پیش کردہ شرائط پر عمل درآمد کے ذریعے ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق و مفادات کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر بھی تاکید کی۔
اس ملاقات میں اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری بریگیڈیر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے مختلف شعبوں میں ملک کی صورت حال اور جاری کوششوں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی۔ انھوں نے اپنی رپورٹ میں قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹریٹ کی جانب سے علاقے میں اندرونی طور پر تشکیل پانے والے میکینزم کو منظم کرنے کی اسلامی جمہوریہ کی اسٹریٹجک پالیسی کے سلسلے میں جاری اقدامات کی بھی تشریح کی۔










آپ کا تبصرہ