حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں اتحاد جوانان انقلاب 14 فروری کی جانب سے 8 نومبر کو ’’عوامی یومِ غضب‘‘ منانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس کے پیش نظر سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی بڑھا دی گئی ہے، بالخصوص البدِیع شاہراہ کے داخلی راستوں پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
حکام نے ذرائع ابلاغ اور نیوز پیپرز سے کہا ہے کہ وہ ان مظاہروں کی اپیلوں کو اشتعال انگیز، تشدد پر اکسانے والی اور قانون کے خلاف قرار دینے والے پیغامات نشر کریں۔
اتحاد جوانان انقلاب 14 فروری نے 26 اکتوبر کو جاری بیان میں عوامی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہوئے آئندہ احتجاجی پروگراموں میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا۔ اتحاد نے علمائے دین کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف مقدمات کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب الوفاق، الوفاء، احرار بحرین، حق، الائتلاف اور امل سمیت متعدد انقلابی جماعتوں نے مشترکہ بیان میں علمائے دین کے خلاف مقدمات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مذہبی آزادیوں کو محدود کرنا ہے۔ ان جماعتوں نے عوام سے مذہبی اور قومی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
انقلابی حلقوں کے مطابق، خطے کی بدلتی صورتحال اور امریکی کانگریس کے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں بحرین کی حکومت علمائے دین کے معاملے پر ممکنہ ردعمل کو محدود کرنے اور ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے ذریعے اندرونی و بیرونی ردعمل روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔










آپ کا تبصرہ