جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 05:38
علم و فنِ خطابت میں حکمت، تحقیق اور مخاطبین کی رعایت ضروری ہے، علامہ محمد عرفان بھول نجفی

درس اخلاق:

علم و فنِ خطابت میں حکمت، تحقیق اور مخاطبین کی رعایت ضروری ہے، علامہ محمد عرفان بھول نجفی

خطیب کو مستند علمی مواد، موقع و محل اور سامعین کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے گفتگو کرنی چاہیے

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین علامہ محمد عرفان بھول نجفی نے درسِ اخلاق میں فنِ خطابت کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: خطیب کو مستند علمی مواد، موقع و محل اور سامعین کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے گفتگو کرنی چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین محمد عرفان بھول نجفی نے درسِ اخلاق میں علم و فنِ خطابت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک مؤثر خطیب کی علمی ذمہ داریوں، حکمتِ گفتار اور سامعین کی فکری و اخلاقی تربیت کے اہم پہلوؤں کو بیان کیا۔

انہوں نے اپنے درس کا آغاز قرآن کریم کی اس آیتِ مبارکہ سے کیا: إِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللّٰهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ۔ ترجمہ: اللہ کے بندوں میں سے حقیقت میں اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ بے شک اللہ غالب، بہت بخشنے والا ہے۔ (سورۂ فاطر، آیت 28)

علم و فنِ خطابت میں حکمت، تحقیق اور مخاطبین کی رعایت ضروری ہے

علامہ محمد عرفان بھول نجفی نے فنِ خطابت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا: حکمت کا تقاضا یہ نہیں کہ خطیب منبر پر ہر قسم کی بات بیان کرے بلکہ اصل حکمت یہ ہے کہ صحیح، مستند اور مفید بات سامعین تک پہنچائی جائے۔ اسی طرح ایک مجلس میں اپنے تمام علمی ذخیرے کو بیان کر دینا بھی حکمت نہیں، بلکہ دانش مندی یہ ہے کہ مخاطبین کی ضروریات، فہم و ادراک اور موقع و محل کے مطابق گفتگو کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا: فنِ خطابت میں مقام، وقت، سامعین کی ذہنی سطح اور معاشرتی حالات کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ایک مؤثر خطیب وہی ہوتا ہے جو حالات اور مخاطبین کی مناسبت سے اپنا پیغام پیش کرے، تاکہ اس کی گفتگو سامعین کے لیے قابلِ فہم، مفید اور اثر انگیز ہو۔

علم و فنِ خطابت میں حکمت، تحقیق اور مخاطبین کی رعایت ضروری ہے

علامہ محمد عرفان بھول نجفی نے علمی مواد کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خطابت کے لیے علمی ذخیرے کا ہونا ضروری ہے، لیکن محض معلومات کا جمع ہونا کافی نہیں، بلکہ ان کا مستند اور معتبر ہونا بھی لازمی ہے۔ خطیب کی ذمہ داری ہے کہ منبر پر کوئی بات بیان کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کرے اور حتی الامکان معتبر علمی مصادر سے اس کی صحت کی تصدیق کرے تاکہ غیر مستند روایات اور غلط معلومات کی اشاعت سے بچا جا سکے۔

انہوں نے فنِ خطابت کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہا: خطابت محض الفاظ کی خوب صورتی، بلند آواز یا طرزِ بیان کا نام نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد سامعین تک صحیح پیغام پہنچانا، ان کی فکری و اخلاقی تربیت کرنا اور انہیں حقائق کی جانب متوجہ کرنا ہے لہٰذا خطیب کو اپنی گفتگو میں علمی پختگی، فکری بصیرت اور اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

علم و فنِ خطابت میں حکمت، تحقیق اور مخاطبین کی رعایت ضروری ہے

درس کے اختتام پر اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی کہ علم حاصل کرنا اپنی جگہ اہم ہے لیکن علم کو صحیح طور پر سمجھنا، اس پر عمل کرنا اور اسے مناسب انداز میں دوسروں تک پہنچانا بھی نہایت ضروری ہے۔ ایک ذمہ دار خطیب وہی ہے جو اپنے علم کو ذاتی عمل، درست طرزِ بیان اور مؤثر تبلیغ کے ذریعے معاشرے کی اصلاح و تربیت کا ذریعہ بنائے۔

علم و فنِ خطابت میں حکمت، تحقیق اور مخاطبین کی رعایت ضروری ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha