حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرینگر/ قائد اتحاد اسلامی، ممتاز مصنف و قلمکار، بانی مدینہ پبلک اسکولز کشمیر، شعلہ بیان مقرر اور نامور سیاسی و سماجی رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین مرحوم مولانا محمد عباس انصاری (نور اللہ مرقدہ) کی چوتھی برسی کے سلسلے میں گنڈ حسی بٹ سرینگر میں ایک روزہ مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس میں وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے عقیدت مندوں، علمائے کرام اور معتقدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مرحوم قائد کی دینی، علمی، تعلیمی اور ملی خدمات کو یاد کرتے ہوئے انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
سرینگر میں مولانا محمد عباس انصاریؒ کی چوتھی برسی پر مجلس ترحیم کا انعقاد
مجلس کا آغاز اجتماعی قرآن خوانی سے ہوا، جس کے بعد دن بھر ذاکرین اور مرثیہ خوانوں نے بارگاہ اہل بیتؑ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔ مجلس کے دوران مرحوم مولانا محمد عباس انصاری(رح) کی زندگی، ان کی فکری و نظریاتی جدوجہد اور ملت کی تعمیر و رہنمائی کے لیے انجام دی گئی خدمات کو یاد کیا گیا۔ اس موقع پر شہید رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای(رح)کو بھی عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا گیا اور ان کی دینی، فکری اور انقلابی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ماحول سوگوار اور عقیدت و احترام کے جذبات سے معمور رہا۔

مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے وادی کے ممتاز عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ غلام رسول نوری صاحب نے مرحوم قائد کی شخصیت اور ان کی ہمہ جہت خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد عباس انصاری(رح)محض ایک مذہبی یا سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ ایک صاحبِ فکر، صاحبِ قلم، صاحبِ بصیرت اور دوراندیش شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے اپنی زندگی ملت کی فکری، تعلیمی اور دینی آبیاری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد کا دائرہ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے تعلیم، تبلیغ، تصنیف و تالیف اور سماجی اصلاح کے میدانوں میں اپنی گہری چھاپ چھوڑی۔ مولانا عباس انصاری(رح)کی تعلیمی خدمات کا ایک روشن باب مدینہ پبلک اسکولز کا قیام ہے، جس کے ذریعے انہوں نے وادی کے مختلف علاقوں میں علم و تعلیم کی شمع روشن کرنے کی عملی کوشش کی۔ وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور سربلندی کا راستہ تعلیم و تربیت سے ہوکر گزرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے نئی نسل کی علمی و اخلاقی تربیت کو اپنی ترجیحات میں نمایاں مقام دیا۔

شیخ نوری نے مزید کہا کہ مرحوم مولانا عباس انصاری(رح)نے اپنے خطابات، تحریروں اور عملی جدوجہد کے ذریعے قرآن اور تعلیمات اہل بیتؑ کی ترویج و تبلیغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تحریریں فکری گہرائی، ان کے خطابات دینی و ملی شعور اور ان کی جدوجہد ملت کے تئیں غیر معمولی وابستگی کی عکاس تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے عہد کے فکری و سماجی چیلنجوں کا سامنا کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک فکری اور عملی ورثہ چھوڑا۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ کسی رہنما کی حقیقی عظمت کا اندازہ اس کے عہدے یا شہرت سے نہیں بلکہ ان نقوش سے لگایا جاتا ہے جو وہ اپنے معاشرے اور آنے والی نسلوں کے ذہنوں اور زندگیوں پر چھوڑ جاتا ہے۔ مولانا محمد عباس انصاری(رح)کی زندگی اور خدمات اسی حقیقت کی عکاس ہیں۔ ان کی تعلیمی، قلمی، دینی اور فلاحی جدوجہد کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ مجلس کے اختتام پر مرحوم قائد کے ایصال ثواب، بلندیٔ درجات اور مغفرت کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ