حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج کے دور میں جب معاشرے کو اپنی حقیقی اور شناخت ساز اقدار کی بازیافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہو رہی ہے، طرزِ زندگیِ فاطمی کے مختلف پہلوؤں کا ازسرِنو مطالعہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
اسلامی تاریخ کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت صدیقہ کبریٰ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت محض ایک تاریخی نمونہ نہیں بلکہ ہر دور میں انسانی اور ایمانی زندگی کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل ہے۔ حوزہ نیوز ایجنسی اس بے مثال تاریخی نمونے کے مختلف پہلوؤں کو متعدد حصوں میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کر رہی ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بڑی مشکل سے اپنی آنکھیں کھولتی ہیں۔ درد نے پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ گھر ابھی تک دھوئیں سے بھرا ہوا ہے اور جناب فضہ اشکبار آنکھوں کے ساتھ آپ کے سرہانے بیٹھی ہیں۔
حسن اور حسین علیہما السلام کی خیریت دریافت کرنے سے پہلے، یہاں تک کہ اپنے محسن کی شہادت پر سوگوار ہونے سے بھی پہلے، آپ اپنے امام کا نام پکارتی ہیں۔
آپ امام علی علیہ السلام کے بارے میں دریافت کرتی ہیں، جو مظلومیت کا شکار ہیں۔ جب معلوم ہوتا ہے کہ انہیں مسجد لے جایا گیا ہے تو آپ سلام اللہ علیہا اپنے تمام درد اور مصائب کو فراموش کرکے فوراً مسجد کی جانب روانہ ہو جاتی ہیں۔
مسجد میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا دوٹوک انتباہ امام علی علیہ السلام کی جان بچا لیتا ہے یعنی اپنے زمانے کے امام کی جان۔
ماخذ: بحار الانوار، جلد 43، صفحہ 47










آپ کا تبصرہ