حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گناہ پر پشیمانی کا اظہار کرنا اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے خود کو عبادت پر مجبور کرنا، ریاکاری کی دو پوشیدہ صورتیں ہیں۔ انسان کبھی خداوندِ متعال کی بارگاہ میں اپنی حاضری اور جواب دہی کا احساس رکھنے کے بجائے دوسروں کی نگاہوں میں مقام حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس راہ میں خود کو دھوکا دے بیٹھتا ہے۔
اسی سلسلے میں اخلاقیات کے ماہر حجت الاسلام والمسلمین محمد ہادی فلاح خورشیدی نے اپنے بیان میں اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے:
ریاکاری اور عبادت میں دکھاوا کبھی گناہ ترک کرنے کے معاملے میں اور کبھی عبادت، واجبات کی ادائیگی اور دیگر دینی امور کی انجام دہی میں ظاہر ہوتا ہے۔
بسا اوقات انسان عبادت میں کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے لیکن لوگوں کے سامنے اپنی ندامت کا اظہار کرتا ہے اور بظاہر واقعی پلٹنے اور اپنی شرمندگی ظاہر کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، تاہم اسی پشیمانی کے اظہار کے ذریعے خود کو دھوکا دے رہا ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ بھی نفس کا ایک جال ہے۔
معصوم امام علیہ السلام انسان کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں ہوشیار رہے۔ پشیمانی ضروری ہے اور انسان کو اپنے گناہ پر حقیقتاً نادم ہونا چاہیے، لیکن اسے ندامت کے محض اظہار کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ انسان لوگوں کے سامنے گناہ اور عبادت میں کوتاہی پر پشیمانی ظاہر کرکے درحقیقت خود کو ہی فریب دے رہا ہو۔ «وَ رُبَّمَا عَقَمَتْ نَفْسٌ عَلَی الْعِبَادَةِ مُتَکَلِّفَةً» ترجمہ: بسا اوقات انسان تکلف اور مشقت کے ساتھ خود کو عبادت پر مجبور کرتا ہے تاکہ لوگ اسے عبادت گزار سمجھیں۔
یہ صورتِ حال پہلے مورد، یعنی گناہ پر پشیمانی کے اظہار اور بارہویں مورد، یعنی عبادت میں دکھاوے، دونوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
خداوندِ متعال ہم سے جس چیز کا مطالبہ کرتا ہے، وہ اخلاص ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «وَاللهُ یُرِیدُ الْإِخْلَاصَ» ترجمہ: اور خداوندِ متعال اخلاص چاہتا ہے۔
تم ریاکاری کے فریب میں آگئے ہو، دکھاوے کے دھوکے میں مبتلا ہوگئے ہو اور اس کوشش میں لگ گئے ہو کہ لوگوں کی نگاہوں میں اپنے لیے کوئی مقام بنا سکو۔ لہٰذا گیارہواں مورد گناہ پر پشیمانی کا دکھاوا اور بارہواں مورد عبادت میں ریاکاری ہے۔ یہ دونوں ریا کے مصادیق ہیں۔ البتہ ان کے درمیان وہی فرق ہے جس کی وضاحت میں نے کی اور روایت کی روشنی میں اس کی طرف اشارہ کیا۔
کائنات میں حقیقی بصیرت اور ذاتی طور پر دیکھنے کی صلاحیت رکھنے والی واحد نگاہ خداوندِ متعال کی نگاہ ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی نگاہ اور توجہ کو خدا کی بارگاہ اور اس کی نظرِ عنایت کی طرف متوجہ نہ کرے تو وہ اس بات کا مستحق بن جاتا ہے کہ اسے ایسی نگاہوں کے سپرد کردیا جائے جن میں حقیقی بصیرت اور دیکھنے کی ذاتی صلاحیت موجود نہیں۔
ایسی غفلت کا خمیازہ یہ ہے کہ انسان خدا کی نگاہِ عنایت سے گر جاتا ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ مخلوق کی آنکھوں کی تعداد کے برابر نگاہوں کے حوالے کردیا جائے۔










آپ کا تبصرہ