۶ آذر ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 27, 2021
ظہور مہدی مولائی

حوزہ/دنیائے انسانیت کے سینکڑوں خواص افراد میں سے کچھ کے تاثرات کے مختصر اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جنھیں ھم نے عاشقان امام خمینیؒ و ارادتمندان انقلاب اسلامی کی خدمت میں تیمنا و تبرکا پیش کیا ھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجت الاسلام مولانا ظہور مہدی مولائی نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے امام خمینیؒ کی برسی پر امامؒ کو یاد کرتے ہوئے عقیدت کا اظہار کیا،اس سلسلے میں مزید جامع انداز سے روشنی ڈالنے کے لیے انہوں نے مراسلہ ارسال فرمایا جسمیں انہوں نے بڑے ہی شستہ اور رواں انداز میں امام خمینیؒ کی شخصیت کو خواص عالم کی نگاہ سے پیش کیا ہے۔

مولانا لکھتے ہیں،سرکار آیت اللہ العظمی سید روح اللہ الموسوی الخمینی علیہ الرحمہ بیسویں صدی کی وہ فقید المثال و جامع الاطراف عظیم الھی ، اسلامی و انسانی شخصیت تھے کہ جن کی یاد انکے سانحہ ارتحال و انتقال کو اکتیس سال گزرجانے کے بعد بھی عالم اسلام اور جہان انسانیت کے دل میں باقاعدہ زندہ و پائندہ ھے۔
حقیقت یہ ھے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ھے ویسے ویسے ان کی شخصیت اور قابل قدر کارناموں کی عظمت میں مزید اضافہ ھوتا جارہا ھے۔
حضرت امام خمینی علیہ الرحمہ کا جامع تعمیری کردار اور عالمی پیمانہ پر ان کے اسلامی و انسانی خدمات اتنے باعظمت و بابرکت ھیں کہ بلا تفریق ، تمام اقوام عالم کےعوام و خواص دونوں انھیں خراج تعظیم و تحسین پیش کرتے ھوئے دکھائی دیتے ھیں۔
ھم یہاں ان مرحوم کی اکتیسویں برسی کے موقع پر ان کی نازش روز گار ھستی سے متعلق صرف کچھ خواص کے قیمتی تاثرات کے اھم اقتباسات پیش کررھے ہیں :
۱۔ عظیم شیعہ مرجع و فقیہ آیت اللہ العظمی گلپائیگانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
اللہ کا سلام ھو روح اللہ پر کہ انھوں نے دشمنان اسلام سے بے امان جنگ کرکے ان کے تمام تر سیاسی معادلات کو نابود کرڈالا اور سب سے بڑی عالمی استعماری طاقتوں پر کامیابی حاصل کرلی ۔ [روزنامہ رسالت ، ویڑہ نامہ پرتوی از خورشید، مورخہ ۱۲۔ ۳۔ ۱۳۷۸۔]
۲۔ فقیہ و متفکر شیعہ آیت اللہ العظمی شھید باقر الصدر علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ :
درحقیقت امام خمینی ، امام معصوم علیہ الصلوۃ والسلام کے عظیم ترین نائب تھے۔ [حوالہ سابق۔]
۳۔ شیعہ فیلسوف و مجتھد آیت اللہ العظمی جوادی آملی حفظہ اللہ قائل ھیں کہ :
امام خمینی کے اندر پائے جانے والے انحصاری و امتیازی ایمان ، علم ، اخلاص ، صداقت ، مجاھدت ، شجاعت ، غیرت ، عظمت اور نورانیت وغیرہ نے سب کو یہ باور کرادیا ھے کہ امام خمینی کا موازنہ و مقائسہ دوسروں سے نہیں کیا جاسکتا۔[بنیان مرصوص ، ص ۶ ،نشر اسراء، چاپ دوم۔]
۴۔ اھل سنت کے نمایاں عالم جناب مولانا نواب الدین نقشبندی صاحب کہتے ھیں کہ :
امام خمینی رحمہ اللہ نے ایرانی سماج(جو مغربی فاسد تہذیب میں غرق تھا) کو مکمل اسلامی معاشرہ میں تبدیل کردیا ، تاریخ بشریت کے اس عظیم مرد نے سلمان رشدی کے بالوسیلہ اسلامی مقدسات کی توھین کے مقابلہ میں عالم اسلام کی طولانی خاموشی کے بعد وہ فتوی صادر کیا کہ جس نے اسلام دشمن طاقتوں اور حکومتوں کو حیران و پریشان کرڈالا۔[ خورشید بی غروب ، ص ۷۴، طبق نقل خبر گزاری بولٹن مورخہ ۲۲۔۳۔۱۳۶۸]
۵۔ پاکستان کی سابقہ وزیر اعظم مرحومہ جناب بے نظیر بھٹو صاحبہ نے کہا ھے کہ :
امام خمینی ایسے رھبر کہیں صدیوں میں جاکے جنم لیتے ھیں۔
جمہوری اسلامی ایران ھمارے لئے بہت اھمیت کا حامل ھے، امام خمینی کے پیغامات آئندہ بھی مسلمانوں کےلئے چراغ ھدایت رھیں گے۔[ باشگاہ خبر نگاران جوان ، کدخبر : ۵۶۳۲۷۸۵]
۶۔عالم اھل سنت جناب مولانا کوثر نیازی صاحب معتقد ھیں کہ :
امام خمینی کا طرز زندگی ، صدر اسلام کے رھبروں سے قابل موازنہ ھے ، وہ موجودہ و آئندہ تمام مسلمانوں کے لئےعظیم معلم و مشعل راہ کی حیثیت سے ظاھر ھوئے ہیں ، بلا مبالغہ ان کا وجود مسلمانوں کے لئے برکت اور ان کے اعمال وگفتار امت مسلمہ کے لئے وحئ الہی کے دائمی سرچشمہ کے مانند ھیں۔[امام خمینی درحدیث دیگران ، ص ۹۲۔]
۷۔ انگلینڈ کے پارلیمنٹ میں وھاں کے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے متفکر ڈاکٹر جناب غیاث الدین صدیقی صاحب کا کہنا ھے کہ : 
امام خمینی رحمہ اللہ کی شخصیت نے جدید دنیا بالخصوص امت اسلام پرگہرا اثر ڈالا ھے۔
مدتوں سے ھم ایسے رھبر وقائد سے محروم تھے کہ جس کی ھربات اثر رکھتی ھو۔
میری نطر میں امام خمینی کی اھم خصوصیت یہ تھی کہ لوگ یہ محسوس کرتے تھے کہ وہ جو بھی کرتے ھیں اسلامی قدر و عزت کے لئے کرتے ھیں۔۔۔۔۔۔ اسلامی سماج میں یہ معمول بن گیا ھے کہ جب بھی کوئی چیز اچھی طرح آگے نہیں بڑھتی تو لوگ کہتے ھیں :
"ھمیں ایک خمینی کی ضرورت ھے" ۔[خورشید بی غروب ، ص ۷۶۔]
۸۔ یونان کے عیسائی پاپ ، عالم و محرر ڈاکٹر سرجارج موسٹاکیس( کہ جنھوں نے امام خمینی کے وصیت نامہ کا اپنی ملکی زبان میں ترجمہ بھی کیا ھے) اظہار کرتے ھیں کہ: 
میں ایک عیسائی ھوں لیکن امام خمینی سے بہت زیادہ محبت رکھتا ھوں ، امام خمینی امت اسلامیہ کے ایک بڑے مصلح تھے ، میں اور دنیا بھر کے تمام آزاد عیسائی اپنا فرض سمجھتے ھیں کہ ان کی اطاعت و پیروی کریں۔
پھر یہ عیسائی عالم و دانشمند امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے تہران میں واقع بیانات ، خطابات اور ھدایات کے مرکز " حسینہ جماران" سے متعلق اپنا احساس یوں بیان کرتے ھیں :
یہاں ( تہران) میں ، میں نے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت مسجد دیکھی ھے ، وہ مادیات کی وجہ سے خوبصورت اور مقدس نہیں ھے ، وہ اسلئے خوبصورت نہیں ھے کہ سونے چاندی یابلور سے بنائی گئی ھے بلکہ وہ امام خمینی کی روح کی وجہ خوبصورت و مقدس ھے۔[روزنامہ جمھوری اسلامی ، مورخہ ۲۴۔۱۱۔۱۳۶۸]
۹۔ امریکہ کے ایک گزشتہ صدر مسٹرجیمی کارٹر کا کہنا ھے کہ :
آیت اللہ خمینی اپنے ملک میں ایک عظیم بہادر و شجاع حکمران مانے جاتے ھیں۔[مشرق نیوز ، منبع تسنیم۔]
۱۰۔ ایک گزشتہ امریکی صدر کے یہودی الاصل مشیرخاص مسٹر ھینری کیسنجیر کا بیان ھے کہ:
آیت اللہ خمینی نے مغرب کو ایک واقعی بحران سے دو چار کردیا ، ان کے ارادوں میں ایسی برقی گھن گرج پائی جاتی تھی کہ جس نے اھل سیاست اور نظریہ پردازوں کے لئےکسی قسم کی سوچ ، رائے اور نظریہ کا مجال باقی نہیں چھوڑاتھا ، کوئی ان کے عزائم کا پہلے سے اندازہ نہیں لگا سکتا تھا ، وہ دنیا کے معروف معیارات سے ھٹ کر دوسرے معیارات پر گفتگو اور عمل کرتے تھے گویا انھیں کسی دوسری جگہ سے الھام ھوتا تھا ، مغرب سے آیت اللہ خمینی کی دشمنی الہی تعلیمات کی دین تھی وہ اپنی اس دشمنی میں خلوص نیت رکھتے تھے۔[ حوالہ سابق۔]
۱۱۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی تنظیم کے راس و رئیس مسٹردانیل پاییز قائل ھیں کہ : 
ھمین اعتراف کرنا چاھیئے کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے پہلے ھم دینی ومذھبی افکار کےلئے کسی محل و مقام کے قائل نہیں تھے لیکن اس کے بعد ھم امریکیوں کے لئے ضروری ھے کہ مذہب سے متعلق مطالعہ و تحقیق کا زمینہ فراھم کریں بالخصوص امام خمینی کے افکار ، عقائد ، طرز رفتار اور مقصد و ھدف کے سلسلہ میں تحقیقات انجام دیں چونکہ ممکن نہیں ھے کہ دنیا پر امام خمینی کی فکر کی تاثیراث کو دیکھ کر بآسانی گزر جائیں ، مغربی دنیا نے امام خمینی کے افکار کے نفوذ و رسوخ کی وجہ سے دوبارہ اسلام کو کشف کرلیا ھے اور یہ چیز ھم امریکیوں کو مشکل سے دوچار کرنے والی ھے۔[پرتال امام خمینی ،کد مطلب : ۵۰۰۴۱، مورخہ ۱۰۔۲۔۱۳۹۸]
۱۲۔ ھندوستان کے سابق وزیر اعظم مسٹر راجیو گاندھی نے کہا ھے کہ : 
امام خمینی کی رحلت سے دنیا ایک عظیم روحانی و انقلابی اور وسیع النظر رھبر سے محروم ھوگئی ھے۔[خبرگزاری تسنیم ،۱۲ خرداد۱۳۹۵۔]
۱۳۔ جماھیر روس کے سابق رھبر مسٹر میخائیل گورباچوف کا اعتراف ھے کہ :
وہ ( امام خمینی ) زمانہ سے آگے بڑھ کے سوچتے تھے ، ان کا وجودمکانی قیدو حد میں نہیں سماتاتھا، انھوں نے تاریخ عالم میں عظیم اثر چھوڑ کر دکھادیا۔[ حوالہ سابق۔]
یہ دنیائے انسانیت کے سینکڑوں خواص افراد میں سے کچھ کے تاثرات کے مختصر اقتباسات تھے جنھیں ھم نے عاشقان امام خمینی و ارادتمندان انقلاب اسلامی کی خدمت میں تیمنا و تبرکا پیش کیا ھے۔
اس بہترین ادیب و خطیب نے اپنی تحریر کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا،رب رحیم و کریم عز و جل سے بحق معصومین کرام علیھم السلام دعاھے کہ رھبر کبیر انقلاب کا حشر و نشران کے اولیا و اجداد طاھرین کے ساتھ قرار دیتے ھوئے اسلام و مسلمین کی طرف سے انھیں ان کے گرانقدر خدمات کی بہترین جزامرحمت فرمائے اور موجودہ عظیم و بصیر رھبر و قائد آیت اللہ العظمی خامنہ ای دام ظلہ الوارف کی مبارک حیات نیز انقلاب اسلامی کے وجود و فروغ کو اپنے ولئ برحق حضرت امام عصر علیہ الصلوۃ والسلام و ارواحنا لتراب مقدمہ الفداء کے ظھور پر نور سے متصل و مقرون قرار دے۔اللھم عجل لولیک الفرج واجعلنا من انصارہ و اعوانہ والعن و اھلک اعدائہ اجمعین آمین

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 16 =