۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
مولانا ظہور مہدی مولائی

حوزہ/غالیوں کے ساتھ نششت و برخاست نہ رکھو، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ، ان کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھاؤ اور ان سے علمی و ثقافتی تبادلہ نہ کرو۔

حوزہ نیوز ایجنسی|
حجت خداوند متعال، فرزند رسول ، مخزن اسراروعلوم، مصحف ناطق حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام نے بہترین و بکثرت عبادت و ریاضت، الہی ذکر و شکر، دعا و مناجات، ارشاد و ہدایت، وعظ و تبلیغ، غرباپروری، یتیم و فقراء نوازی، مریضوں کی عیادت و تیمارداری جیسے بہت سے عظیم امور و اعمال مسلسل و مستقل طور پر بجالانے کے ہمراہ دین اسلام اور عالم بشریت کی ہمہ جہت اعتقادی، علمی، فکری، فنی اور ثقافتی جیسی باعظمت خدمات بھی اس طرح انجام دی ہیں کہ پچیس سال تک آپ کا بیت الشرف "اسلامی و انسانی یونیودسٹی" کا منظر پیش کرتارہا، جس میں مجموعی طور پر مختلف علوم وفنوں حاصل کرنے والے چار ہزار شاگرد پائے جاتے تھے۔[مناقب آل ابی طالب ابن شهر آشوب مازندرانی، ج ۴، ص ۲۴۷، انتشارات علامه، قم، چاپ اول، ۱۳۷۹ھ ق۔]

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سرکار امام صادق علیہ الصلوۃ والسلام کی عالمی پیمانہ پر اس اعلی دینی ، علمی ، فکری اور فنی تحریک و نہضت نے اس دور کو "نشر علوم و فنون" کے عہد زرین میں تبدیل کردیا تھا۔
لیکن فقط یہی نہیں کہ آپ نےعلوم و فنون کی بلاوفقہ نشر و اشاعت سے عالم اسلام و جہان بشریت کو فیضاب کیا ہے بلکہ اسلام ناب اور واقعی اقدار فطرت و انسانیت سے لوگوں کو منحرف کرنے والے افکارونظریات کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور نہایت مضبوط و متقن دلائل کے ذریعہ ان کا بطلان ثابت و ظاہر فرمایا ہے ہم جس کے کچھ نمونے اس مقالہ میں مختصر طور پر پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں:

۱۔ نظریہ تجسیم :
مصحف ناطق حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام کے دور میں کچھ ایسے کج فکر محدثین بھی تھے کہ جو بعض آیات و روایات کے ظواھر کی بناء پر خداوند سبحان کو انسان کی طرح جسم و صورت کے ساتھ پہچنواتے تھے۔
آپ اس فکر کے حامل افراد سے کھل کر بیزاری کا اظہار کرتے اور مدلل طور پر اس کج فکری کی تردید فرماتے تھے۔
چنانچہ اس منحرف فکر و نظریہ کے حامل ایک شخص کے بارے میں جب آپ کی بزم علم و حکمت میں ذکر ھوا تو آپ نے فرمایا : 
" ویحه أما علم أن الجسم محدود متناه والصورة محدودة متناهیة فإذا احتمل الحد احتمل الزیادة والنقصان وإذا احتمل الزیادة والنقصان کان مخلوقا قال: قلت: فما أقول؟ قال: لا جسم ولا صورة وهو مجسم الاجسام ومصور الصور، لم یتجزء ولم یتناه ولم یتزاید ولم یتناقص، لو کان کما یقولون لم یکن بین الخالق والمخلوق فرق ولا بین المنشئ والمنشأ لکن هو المنشئ فرق بین من جسمه وصوره وأنشأه، إذ کان لا یشبهه شئ ولا یشبه هو شیئا"[الکافی ، کلینی ، جلد ۲ ، باب النہی عن الجسم والصورہ ، ص ۲۵۵، چاپ دوم ، سال ۱۳۶۲، تہران انتشارات اسلامیہ۔]وائے ھو اس پر ، کیا وہ نہیں جانتا کہ جسم محدود و متناھی ھوتا ھے اور شکل و صورت بھی محدود و متناھی ھوتی ھے اور چونکہ جسم محدور و متناھی ھوتا ھے اس لئے اس میں کمی بیشی پیدا ھوتی رھتی ھے اور جب اس میں کمی بیشی پیدا ھوتی رھتی ھے تو وہ مخلوق ھے۔
یہ سن کر آپ کے ایک صحابی نے عرض کی پس اس سلسلہ میں میرا عقیدہ کیا ھونا چاھیئے تو آپ نے فرمایا : 
اس ( خداوند سبحان ) نے جسموں کو جسم اور صورتوں کو صورت بنایا ھے ، وہ جز نہیں رکھتا، نہایت ( حد و انتہا ) نہیں رکھتا اور اس کے یہاں کمی بیشی نہیں پائی جاتی۔
اگر حقیقت وہ ہو جو وہ (فرقہ مجسمہ والے) کہتے ہیں تو پھر خالق و مخلوق اور پیدا کرنے والے اور پیدا کئے ھوئے میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا جبکہ ( حق یہ ھے کہ ) وہ ھے پیدا کرنے والا اور اس( خالق) کے اور اس کے جس کو اس نے جسم ، شکل و صورت اور وجود سے نوازا ھے ، ( یقینأ ) فرق ھے چونکہ کوئی چیز اس ( اللہ ) کے مانند نہیں ھے اور وہ کسی چیز کے مانند نہیں ہے۔

۲۔ نظریہ جبر :
اس نظریہ کا مطلب یہ ھے کہ انسان جو بھی اچھے برےاعمال و افعال انجام دیتا ھے ، وہ اپنے ارادہ و اختیار سے انجام نہیں دیتا بلکہ خدائی جبر کی وجہ سے انجام دیتا ہے۔
یہ نظریہ ، اسلام و قرآن کے تعلیمات کے برخلاف ہے۔
فرزند رسول امام صادق علیہ السلام کے دور میں سب سے بڑھ چڑھ کر جو اس انحرافی نظریہ کی طرفدادی ، تقویت اور تبلیغ و ترویج کرتے تھے وہ بنی امیہ تھے۔
وہ اس حد تک اس نظریہ کے حامی و طرفدار تھے کہ اس کے مقابلہ میں "نظریہ اختیار " رکھنے والوں کو " اھل بدعت " قرار دے کر موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔
اسلامی سماج میں بنی امیہ " نظریہ جبر " کو اس لئے باقاعدہ رواج دینا چاھتے تھے تاکہ امت مسلمہ کو یہ باور کراسکیں کہ خلافت و حکومت انھیں اللہ تعالی نے عطا کی ھے اور اسی نے ان کے مخالفین کو پسپا و ناکام کیا ہے۔
یعنی اس طرح وہ یہ چاھتے تھےکہ اسلامی خلافت و حکومت کو ناجائز طور پرہتھیانےکے لئے جو بھیانک ظلم و تشدد وہ ڈھا چکے ھیں اور اسے اپنے ہاتھوں میں باقی رکھنےکے لئے جس سفاکیت و بربریت کا ارتکاب کر رھے ہیں یا آئندہ کریں گے ، ان سب کو خداوند سبحان کے سر تھوپ دیا جائے اور خود کو بالکل مجبور قلمداد کردیا جائے۔
لیکن ھمارے متعدد اماموں نے ان کے اس شوم و منحوس منصوبہ کو پاؤں نہیں چلنے دیا اور اسے اسلام ناب سے کھلا انحراف قراردے کر محکم دلیلوں کے ذریعہ باطل کرڈالا۔
چنانچہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے نظریہ جبر و اختیار دونوں کی تردید کرتے ھوئے راہ حق کی یوں نشاندھی فرمائی ھے :
" لا جبر و لا تفویض و لکن امر بین امرین، قال قلت: و ما امر بین امرین؟ قال علیه‌السّلام: مثل ذلک رجل رایته علی معصیة فنهیته فلم ینته فترکته ففعل تلک المعصیة، فلیس حیث لم یقبل منک فترکته کنت انتالذی امرته بالمعصیة" [الکافی ، ج ۱ ص ۱۶۰] یعنی نہ جبر مطلق درست ھے اور نہ اختیار مطلق ، بلکہ وہ امر درست ھے جو ان دونوں کے درمیان ہے۔
یہ سن کر ایک صحابی نے عرض کی :آپ کی" امر بین الامرین " سے کیا مراد ھے ؟تو آپ نے فرمایا : اس کی مثال یہ ھے کہ تم کسی شخص کو حالت گناہ میں دیکھو اور اسے اس گناہ سے روکو ، مگر وہ تمہارا کہنا نہ مانے تو تم اسے چھوڑ کر چل دو اور وہ گناہ کرڈالے تو اس کامطلب یہ نہیں کہ اس نے تمہاری بات نہیں مانی اور تم اسے چھوڑ کر چلدیئے تو تم نے اس سے وہ گناہ کرایا ہے۔
یعنی اللہ تعالی نے بندوں کو نیکی کرنے اور گناھوں سے دور رھنے کا حکم دیا ھے اور انھیں نیکی کرنے اور گناہ سے رکنے کی قوت و صلاحیت بھی دی ھے نیز اس سلسلہ میں ان کی ھدایت و راھنمائی کے لئے اپنی طرف سے کتابیں صحیفے نازل کئے اور انبیاو مرسلین اور ائمہ کو بھی مقرر فرمایا ھے، اس کے باوجود اگر انسان راہ حق و صواب سے منحرف ھوکر راہ گناہ و باطل کو اپنائے تو اللہ تعالی کو دوش دینا ، خلاف عدل بھی اور خلاف عقل و منطق بھی۔
" نظریہ جبر و تفویض " کی تردید اور " نظریہ حق" کی تبیین و توضیح کے حوالہ سے یہ حضرت امام صادق علیہ السلام کی بڑی بلیغ و عمیق در عین حال نہایت وقیع و لطیف تعبیر ہے جسکی واقعیت و لطافت اھل فکر و نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔
۳۔ نظریہ تفویض : 
اھل تفویض ، اھل جبر کے بالکل برعکس اس بات کے قائل ھیں کہ انسان اپنے وجود و ذات کی حیثیت سے تو خالق سبحان کا نیاز مند و محتاج ھے لیکن اپنے اچهےاور برے اعمال و افعال کے سلسلہ میں مکمل آزاد ، مستقل اور مختار ھے اور اللہ عز و جل کی قدرت سے مکمل خارج و باھر ھے۔
یہ نظریہ بھی ایک انحرافی نظریہ ھے اور اسلام و قرآن کے مخالف ھے اس لئے مصحف ناطق حضرت امام صادق علیہ السلام نے متعدد مقامات پر اس کی کھل کر تردید فرمائی ھے جس کا ایک نمونہ یہ ھے :فَقالَ لَهُ: جُعِلْتُ فِداكَ؛ فَفَوَّضَ اللَّهُ إِلَى الْعِبادِ؟قالَ: لَوْ فَوَّضَ إِلَيْهِمْ لَمْ يَحْصُرْهُمْ بِالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ؛ایک سائل نے مولا سے آکر سوال کیا ، میں آپ پر فدا ھوجاؤں ، کیا اللہ تعالی نے جملہ امور و اعمال بندوں کے حوالہ کر دیئے ھیں ( اسے ان کا مکمل اختیار دے دیا ھے )!؟
مولا نے فرمایا: اگر یہ سب بندوں کے سپرد کردیا ھوتا تو پھر ( اللہ تعالی ) امر اور نہی کے ذریعہ ان کے لئے قوانین اور حدبندیاں کیوں قرار دیتا۔ 
یہ " نظریہ تفویض " کی رد و قدح میں ایسا عقلی و منطقی اور واقعی جواب ھے جو اندھے معاند و متعصب کے علاوہ تمام اھل عقل و منطق کے لئے " دلیل متقن و مسکت " کی حیثیت رکھتا ہے۔ [کافی کلینی، ح ۱۳۶۳، ج ۱، ص ۱۵۹۔]

۴۔ نظریہ غلو :
اس نظریہ کے ماننے والوں کو غالی کہا جاتا ہے۔
غالی لوگ شیعہ یا سنی کے عنوان سے اپنے بزرگوں کے سلسلہ میں الوھیت یا نبوت یا بشریت سے مافوق صفات کا عقیدہ رکھتے ھیں۔
ان کا یہ عقیدہ کفر و شرک پر مشتمل ھے اور وہ امام صادق علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں مجوس ، یہود ، نصاری اور مشرکوں سے بدتر ہیں۔ [اختیار معرفۃ الرجال ، شیخ طوسی ، ص ۳۰۱۔]
آپ نے اپنے شیعوں کو ان سے مکمل الگ تھلگ رھنے کی اس طرح تاکید فرمائی ہے:
غالیوں کے ساتھ نششت و برخاست نہ رکھو ، ان کے ساتھ کھانا نہ کھاؤ ، ان کی طرف دوستی کا ہاتھ نہ بڑھاؤ اور ان سے علمی و ثقافتی تبادلہ نہ کرو۔[اختیار معرفۃ الرجال، ج ۲،ص ۵۸۶]
یہ تھا سرکار امام جعفرصادق علیہ الصلوۃ والسلام کے عظیم و مختلف النوع خدمات و مجاھدات میں سے چند کا نہایت مختصر خلاصہ ، جسے ہم نے ان امام ہمام کے روزشھادت کی مناسبت سے آپ پیروان و عاشقان امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا ہے۔
رب کریم سے دعا ھے کہ ھمیں آنحضرت کے صادق شیعوں میں شمار فرمائے اور انقلاب اسلامئ ایران کے اس دور پرفروغ میں ان کے فرزند ارجمند امام عصر علیہ الصلوۃ والسلام کا جلد از جلد ظھور فرماکر جنت البقیع کو مظلومیت و غربت اور ساری کائنات کو ظلم و بربریت سے نجات کرامت فرمائے آمین۔

تحریر :حجة الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا ظھور مھدی مولائی زید عزہ

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 11 =