۶ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 25, 2024
مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ/ عزاداری اور ذکر حسین علیہ السلام ختم کرنے کی بہت کوششیں کی لیکن وہ خود تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو گئے لیکن امام حسین علیہ السلام آج بھی ہر مومن کے دل کی دھڑکن ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنو: روضہ فاطمین شبیہ روضہ جنت البقیع میں منعقد عشرہ مجالس کی پانچویں مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا سید علی ہاشم عابدی نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی مشہور حدیث "بے شک حسین (علیہ السلام) چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہیں" کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے بیان کیا کہ مادی چراغ کے سہارے انسان اندھیرے میں راستہ پاتا ہے اور ضروری نہیں کہ وہ راستہ صحیح ہو لیکن چراغ ہدایت انسان کو نہ فقط رات کے اندھیرے بلکہ دن کے اجالے میں بھی رہنمائی کرتا ہے اور جو بھی اس سے کسب فیض کرتا ہے دو جہاں کی سعادت اسکا مقدر ہوتی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کو اللہ کے سچے رسول نے چراغ ہدایت فرمایا یعنی دو جہاں کی کامیابی بغیر امام حسین علیہ السلام کے ممکن نہیں۔ اور یہ عزاداری اسی چراغ ہدایت سے کسب نور و ہدایت کا ذریعہ ہے۔ 

مولانا نے کہا کہ دنیا نے عزاداری اور ذکر حسین علیہ السلام ختم کرنے کی بہت کوششیں کی لیکن وہ خود تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو گئے لیکن امام حسین علیہ السلام آج بھی ہر مومن کے دل کی دھڑکن ہیں۔ حادثہ چاہے جتنا بھی دردناک ہو لیکن زمانے کے ساتھ اس کا اثر اور ذکر کم اور ختم ہو جاتا ہے لیکن دنیا کا واحد واقعہ کربلا ہے جسکا اثر اور درد و رنج چودہ صدیوں سے زندہ ہے۔ بلکہ اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے کہ چو سو برس پہلے کربلا کی زمین پر جو خون بہا اس کا رنگ پوری دنیا پر چھا گیا اور آج کائنات کے گوشہ گوشہ سے "یاحسین ع۔ " کی صدا سنائی دے رہی ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا تھا "بے شک قتل حسین علیہ السلام سے مومنین کے دلوں میں ایسی حرارت پیدا ہو گی جو کبھی سرد نہیں ہو گی۔" 

مولانا علی ہاشم نے کہا کہ کربلا کی مومنہ، عابدہ صالحہ خواتین جیسے جناب وہب کی والدہ اور زوجہ، جناب مسلم بن عوسجہ کی زوجہ، جناب مسلم بن عقیل کی زوجہ وغیرہ نے حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی تاسی کرتے ہوئے اس ایثار کا مظاہرہ کیا جو شہادت سے کم نہیں بلکہ مقصد شہادت کی حیات ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جناب زینب سلام اللہ علیھا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ با عظمت بی بی ہیں جن کا نام اللہ نے لوح محفوظ پر زینب یعنی اپنے باپ کی زینت رکھا۔ اور حضور ص۔ نے آپ کی فضیلت میں فرمایا کہ "میری اس بیٹی کا احترام کرو کیوں کہ یہ خدیجہ جیسی ہے" بی بی نے اپنے عمل سے شجاعت علی علیہ السلام اور ایثار و انفاق خدیجہ کی یاد تازہ کر دی۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ جس طرح اسلام کا قیام بغیر علی و خدیجہ علیھماالسلام کے ناممکن تھا اسی طرح اسلام کی بقا بغیر زینب سلام اللہ علیھا کے محال تھی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .