۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
تصاویر| اقامه نماز تاسوعای حسینی در جوار سومین حرم اهل بیت(ع)

حوزه/پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نویں محرم یعنی تاسوعائے حسینی کی عزاداری پورے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے اور دنیا کے لاکھوں عقیدت مند شہدائے کربلا کی یاد میں اشک غم بہا رہے ہیں اور سینہ زنی کر رہے ہیں۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج نویں محرم یعنی تاسوعائے حسینی کی عزاداری پورے مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے اور دنیا کے لاکھوں عقیدت مند شہدائے کربلا کی یاد میں اشک غم بہا رہے ہیں اور سینہ زنی کر رہے ہیں۔

نو محرم کا دن جسے ایران اور عرب ممالک میں تاسوعائے حسینی کہا جاتا ہے، عربی زبان کے لفظ تسع سے ماخوذ ہے جس کے معنی نو اور نھم ہوتے ہیں۔

نو محرم سن اکسٹھ ہجری قمری کو سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب با وفا یزیدیوں کے محاصرے میں تھے اور اہلبیت رسولۖ پر پانی بند تھا۔ یہ خاندان رسولۖ پر انتہائی سخت دن تھا یہی وجہ ہے کہ محبان اہلبیت اطہار(ع) اس دن کو انتہائی غم و اندوہ کے ساتھ مناتے ہیں۔

نویں محرم یعنی تاسوعائے حسینی (ع) کے موقع پر پورے پاکستان میں مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے ۔ البتہ اس مرتبہ عالمی وبا کورونا کی وجہ سے پاکستان میں ماتمی جلوس حسب سابق بر آمد نہیں ہو رہے اور طبی اصولوں کے تحت ہی عزاداری سید الشہدا ہو رہی ہے اور جلوس عزا برامد ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ہر طرف سیاہ پرچم اور بینرز لگے ہوئے ہیں اور ہر جگہ علم ابوالفضل العباس(ع) بلند ہے اور عزاداروں اور سوگواروں کی آہ و بکا کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ عزاداری سید الشہدا کا یہ سلسلہ بدستور جاری ہے اور جیسے جیسے یوم عاشورا قریب آتا جا رہا ہے، عزاداروں کا جوش اور ولولہ بھی بڑھتا جارہا ہے اورعزاداری کا یہ پرجوش سلسلہ شام غریباں تک جاری رہے گا۔

دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی  کروڑوں کی تعداد میں محبان رسولۖ و آل رسولۖ علیھم السلام، مساجد و امام بارگاہوں میں منعقد ہونے والی مجالس اور جلوسوں میں شریک ہیں جو نواسۂ رسولۖ اور آپ کے اصحاب باوفا پر ڈھائے جانے والے مظالم اور بہتّر ساتھیوں کی شہادت پر اشک غم بہا رہے ہیں اور خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

عراق کے مقدس شہر کربلائے معلی میں قیامت کا منظر ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں سوگواران مظلوم کربلا جمع ہوئے ہیں تاکہ اسی سرزمین پر اپنے وجود کا اعلان کرتے ہوئے امام مظلوم کربلا کا غم منائیں جس پر سنہ اکسٹھ ہجری قمری میں نوا‎سۂ رسولۖ ہزاروں یزیدی فوجیوں کے نرغے میں گھرا ہوا تھا اور اعلان کریں کہ آج کربلا حضرت امام حسین(ع) کے چاہنے والوں سے مملو ہے  ۔ پورے عراق اور خاص طور سے مقدس شہروں کربلا و نجف اور کاظمین و سامرا کی فضا لبیک یاحسین کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہے۔ ہرطرف نوحہ و ماتم کی آوازیں بلند ہیں۔ 

ایران، ہندوستان، افغانستان، آذربائیجان، ترکی، کویت ، لبنان اور دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی مجالس عزا کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

البتہ اس مرتبہ عالمی وبا کورونا کی وجہ سے ماتمی جلوس یا بر آمد نہیں ہو رہے یا طبی پروٹوکولز اور طبی اصولوں کے تحت برامد ہو رہے ہیں اور عزاداری سید الشہدا کی جا رہی ہے۔

تاسوعائے حسینی کے غم و اندوہ کے اس موقع پر ہم اپنے تمام کرم فرماوں اور عاشقان حسین (ع) کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .