۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
علامه سید ساجد نقوی

حوزہ/ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یوم سیاہ کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کشمیر و فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کےلئے اپنا مثبت کر دار ادا کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم سیاہ کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل حل تلاش کیا جائے، کشمیرکی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، مقبوضہ علاقے کبھی اٹوٹ انگ نہیں ہوتے، حکومت ہندوستان ہٹ دھرمی چھوڑے اور مظلوم عوام کو استصواب رائے کا حق دے، جنوبی ایشیا کا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، پاکستان موثر سفارتکاری کے ذریعے سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک میں عوام پر بے پناہ مظالم کو بے نقاب کرچکا، جس طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر حکومت ہندوستان کا غاصبانہ قبضہ اور نام نہاد جمہوری ریاست کو پاکستان نے بے نقاب کیا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے قابل عمل حل کےلئے تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات کو اعتماد میں لے کر بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے ، افسوس اقوام متحدہ اور او آئی سی کو بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور حکومت ہندوستان کے ظالمانہ اقدامات نظر نہیں آتے، انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں وہ مظلوموں کی آواز بنیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت ہندوستان کے تسلط اور ناجائز قبضہ کو 7دہائیوں سے زائد عرصہ قبل جب27 اکتوبر 1947ءکو ہندوستان نے اپنی قابض فوجیں سرزمین کشمیر پر اتار کر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سب سے بڑی خلاف ورزی کی، اس حوالے یوم سیاہ پر اپنے پیغام اور کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ گزشتہ سالوں سے ایک مرتبہ پھر سینکڑوں کشمیری ایک مرتبہ پھر شہید کردیئے گئے، پیلٹ گنز کے استعمال سے جوانوں کے ساتھ بزرگ شہریوں ، خواتین اور بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا اور بینائی سے محروم کردیا گیا لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی جبکہ گزشتہ سال سفاکیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے غاصب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت تک ختم کردی اور اب مودی سرکار اوچھے ہتھکنڈوں سے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتی ہے اور کشمیر کے باسیوں کو ہر لحاظ سے ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی سازش کررہی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو مزید موثر انداز میں اٹھانے کےلئے جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل کے ساتھ دیگر فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھا کر بھارتی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کیا ، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے قابل عمل حل کےلئے آگے بڑھا جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات کو اعتماد میں لیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں قابل عمل حل مرتب کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کشمیر جیسے خطوں پر جس طرح قبضہ کیا گیا یہ طے شدہ ملکی حصے نہیں بلکہ مقبوضہ علاقے ہیں جو کسی طریقے سے بھی اٹوٹ انگ نہیں ہوتے، بھارت ہٹ دھرمی چھوڑے اور عالمی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا بند کرے، کشمیریوں کی طویل جہد مسلسل اور انتھک محنت کے سبب آج یہ تحریک آزادی و حریت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ،اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 13 =