۴ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 23, 2024
ایت الله سیستانی

حوزہ / نایف بن دواود بن سلیمان نے تمام عراقیوں کے دفاع کے سلسلہ میں آیت اللہ سید علی سیستانی کے موقف کی قدردانی کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آیت اللہ سید علی سیستانی کی ایزدیوں کو اپنے فرزندان کے طور پر قبول کریں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق اور دنیا بھر میں ایزدی فرقہ کے روحانی پیشوا نایف بن داود بن سلیمان نے اپنے ایک پیغام میں تمام عراقیوں منجملہ ایزدیوں کے دفاع کے سلسلہ میں آیت اللہ سیستانی کے موقف پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آیت اللہ سید علی سیستانی ایزدیوں کو اپنے فرزند کے طور پر قبول کریں گے اور انہیں اپنے لطف وکرم اور حمایت میں شامل کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا: طول تاریخ میں ہم نے کسی کو نہیں دیکھا جس نے آیت اللہ سید علی سیستانی کی طرح ہماری حمایت کی ہو کیونکہ وہ عراقی سرزمین پر گروہ داعش کے قبضے کے وقت ہمارے ساتھ کھڑے تھے۔

ایزدیوں کے روحانی پیشوا نے کہا: ہم کیسے آیت اللہ سیستانی کے اس تاریخی فتویٰ کو فراموش کر سکتے ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا: " ایزدی ہمارے پاس امانت ہیں۔ ان کی یرغمال بنائی جانے والی خواتین ہماری بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ وہ ہماری عزت و آبرو ہیں اور وہ تمام شریف اور غیرت مند عراقیوں کی آبرو ہیں"۔

انہوں نے کہا ہم آیت اللہ سید علی سیستانی کی مرجعیت کے سائے میں آرام و سکون کا احساس کرتے ہیں۔

ایزدیوں کے روحانی پیشوا نے اپنے پیغام کے آخر میں ذکر کیا: ہم آیت اللہ سیستانی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے فرزند کے طور پر قبول کریں۔ انہوں نے سخت ترین حالات میں ہم پر لطف و کرم کرتے ہوئے ہماری حمایت کی۔

یاد رہے کہ 10 ستمبر 2014ء کو ایزدی فرقے کے نمائندوں نے ان سے ملاقات کی تھی جس میں آیت اللہ سیستانی نے کہا تھا کہ ایزدی ہمارے پاس امانت ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .