۱۰ اسفند ۱۳۹۹ | Feb 28, 2021
مولانا سید کلب جواد نقوی

حوزہ/ دفتر مقام معظم رہبری دہلی کی جانب سے امام باڑہ سبطین آباد میں دو روزہ عزائے فاطمیہ کا انعقاد ہوا، آخری مجلس میں بڑی تعداد میں مومنین نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ ۱۸ جنوری : دختر پیغمبر خداؐحضرت فاطمہ زہرا ؐ کی شہادت کے موقع پر امام باڑہ سبطین آباد حضرت گنج میں دفتر مقام معظم رہبری دہلی کی جانب سے دو روزہ عزائے فاطمیہ کا انعقاد عمل میں آیا۔

پہلی مجلس کو حجۃ الاسلام مولانا سید حمیدالحسن صاحب نے خطاب کیا اور آخری مجلس کو حجۃ الاسلام مولانا سید کلب جواد نقوی صاحب نے خطاب فرمایا ۔

مجلس کو خطاب کرتے ہوئے مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہاکہ اسلام کا تصور عبادت اور دوسرے مذاہب کےتصور عباد ت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ دیگر مذاہب میں تنہائی اور رہبانیت کو عبادت کے لئے لازم قرار دیا گیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے روحانی پیشوا جنگلوں ،پہاڑوں اور خلوت کدوں میں دنیا سے کٹ کر عبادت کرتے ہیں جہاں اجتماعی سماجی نظام کا کوئی تصور موجود نہیں ہے جبکہ اسلام میں عبادت کے لئے اجتماعی سماجی نظام موجود ہے ۔ مثال کے طور پر تنہا نماز پڑھنے کا وہ ثواب نہیں ہے جو جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کا ثواب ہے ۔اسی طرح نماز جمعہ قائم کی گئی تاکہ مسلمان اپنا عظیم الشان اجتماع برپا کرسکیں ۔حج جیسی عظیم عباد ت کا ایک مقصد عالمی سطح پر مسلمانوں کے اجتماعی سماجیاتی نظام کو پیش کرنا ہے ۔

مولانا نے کہا کہ اسلام کی ہر عبادت میں اجتماعیت کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔نماز عظیم عبادت ہے مگر خدمت خلق بھی کسی عبادت سے کم نہیں ہے ۔اگر کوئی انسان ڈوب رہا ہو تو حکم شریعت ہے کہ نمازی نماز چھوڑ کر ڈوبنے والے کو بچائے ،خواہ ڈوبنے والا مسلمان ہو یا کسی دوسرے مذہب اور عقیدے کا تابع ہو۔

مولانا نے کہا کہ دنیا کے تمام رہبر اس لئے اپنے مقاصد میں ناکام ہوجاتے ہیں کہ وہ جس کام کا مطالبہ کرتے ہیں اس پر خود عمل نہیں کرتے ۔کمیونزم جیسا نظریہ جس میں ظاہری لحاظ سے بڑی جاذبیت تھی ،ناکام ہوگیا کیونکہ جنہوں نے یہ نعرہ دیا تھا کہ مساوات ضروری ہے وہی اس پر عمل کرنے سے قاصر رہے ۔ مگر اللہ نے جن راہنمائوں کو انسانیت کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے انہوں نے عمل پہلے کیا اور دوسروں سے عمل کا مطالبہ بعد میں کیا ۔مولانانے کہاکہ اللہ کی طرف سے مردوں کے لئے ۱۳ معصوم رہنمائوں کو بھیجا گیا تاکہ وہ انسانوں کی ہدایت کرسکیں اور ان کے لئے نمونۂ عمل قرار پائیں۔مگر حضرت فاطمہ زہرا ؐ خواتین کے لئے تنہا ایسا کامل نمونہ قرار پائیں کہ آپ کے بعد کسی دوسری معصومہ کی ضروت محسوس نہیں ہوئی ۔قیامت تک کے لئے آپ کی سیرت حجت ہے اور نمونہ ٔ عمل ہے ۔مجلس کے آخر میں مولانانے بی بی فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا کی شہادت کا واقعہ بیان کیا جس پر سامعین نے بیحد غم کا اظہا ر کیا اور دیر تک گریۂ و ماتم ہو تا رہا ۔

اس سے پہلے مجلس کا آغا تلاوت کلام پاک سے قاری معصوم مہدی نے کیا ۔اس کے بعد جناب کلب عباس ،جنا ب علی مہدی ،جناب شاہد کمال اور جناب محمد حسنین نے بارہ گاہ سیدہ عالمیان ٔ میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔مجلس کے اختتام پر انجمن زینت عباس لال باغ لکھنؤ کے ماتمی دستہ نےنوحہ خوانی و سینہ زنی کی ۔نظامت کے فرائض عادل فراز نقوی نے انجام دیے ۔مجلس میں مولانا عقیل عباس ،مولانا عاصم باقری ،مولانا محمد حسین واعظ،مولانا ڈاکٹر ظفرالنقی ،مدیر روزنامہ صحافت جناب امان عباس،جناب امتیاز عالم ،اور دیگر شخصیات نے شرکت کی ۔ان مجالس کا اہتمام مجلس علمائے ہند کی جانب سے کیا گیا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 3 =