۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
علامہ ہاشم موسوی

حوزہ/ ہزارہ برادری کے نامور عالم دین نے کہا کہ جب بھی کوئٹہ کے ہزارہ کمیونٹی پر کوئی مشکل وقت آیا تو کراچی کے عوام ان کی حمایت اور مددمیں صف اول میں نظر آئے آج لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی کے لیے دیے جانے والے اس دھرنے کی مومنین کوئٹہ بھرپور حمایت کرتے ہیں۔حکومت سے مسنگ پرسن کی جلد از جلدبازیاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،کراچی/ مزار قائد جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا احتجاجی دھرنا بارہویں روز بھی جاری۔شرکائے دھرنے سے اظہار یکجہتی کیلئے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں کے وفد کے ہمراہ دورے جاری۔شرکاء دھرنا سے اظہار یکجہتی کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنما اور ہزارہ برادری کے نامور عالم دین علامہ سید ہاشم علی موسوی کوئٹہ سے کراچی تشریف لائے اور شرکاء دھرنا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے مومنین آپ سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئٹہ کے ہزارہ کمیونٹی پر کوئی مشکل وقت آیا تو کراچی کے عوام ان کی حمایت اور مددمیں صف اول میں نظر آئے آج لاپتہ شیعہ عزاداروں کی بازیابی کے لیے دیے جانے والے اس دھرنے کی مومنین کوئٹہ بھرپور حمایت کرتے ہیں۔حکومت سے مسنگ پرسن کی جلد از جلدبازیاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین نے اگر مستقل دھرنوں کی کال دی تو کوئٹہ سمیت بلوچستان کی اہم شاہراؤں پر منظم احتجاج کریں گے۔

شرکاء دھرنا سے خطاب میں علامہ مبشر حسن کا کہنا تھا کہ ماہ مبارک رمضان المبارک میں بھی احتجاج جاری رہے گا، ماہ صیام کے بابرکت ماہ میں عبادات دعا و مناجات اور درس قرآن کے روزانہ پروگرامات منعقد کئے جائیں گے۔اس حوالے سے بعد از نماز مغربین مختلف علمائے کرام درس قرآن دیں گے۔16 اپریل کو جبری لاپتہ افراد سے اظہار یکجہتی کیلئے محفل مشاعرہ کرایا جائے گا جس میں عالمی شہرت یافتہ شعرائے کرام جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنے کلام پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مزار قائد کے سامنے جبری گمشدہ افراد کے اہل خانہ سخت گرمی کے عالم میں دن و رات اپنے پیاروں کے انتظار میں اس احتجاجی دھرنے موجود ہیں۔ دھرنے میں شامل کئی سالوں سے جبری لاپتہ افراد کے چند اہل خانہ اپنے پیاروں کے انتظار میں مختلف امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شرکائے دھرنے میں سے اگر کسی مریض کی طبیعت خراب ہوئی یا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ہمارے دھرنے مظلومین کی داد رسی ہیں پرامن احتجاجی دھرنے میں ہزاروں شہری وقتاً فوقتاً روزانہ اظہار یکجہتی کیلئے شریک ہوتے ہیں گزشتہ بارہ روز میں شرکاء کی جانب سے درخت کے ایک پتے کو نقصان تک نہیں پہنچا۔ ہم شکر گزار ہیں ان تمام ملی جماعتوں کے جو روزانہ مسنگ پرسنز کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے یہاں آتے ہیں اور نوجوانوں کی غیر آئینی و غیر قانونی گمشدگی کے خلاف ہم آواز ہوکر بازیابی کا مطالبہ کیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .