۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
حیدرآباد دکن میں دینی درسگاہ بنام "مدرسۃ امیرالمومنینؑ " کا افتتاح

حوزہ/ صدر شیعہ مجلس علماء و ذاکرین حیدرآباد دکن مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدر آغا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مدارس دینیہ کا قیام یقینا قابل مستحسن عمل ہے اور یہ مدارس دینیہ نہیں بلکہ مراکز تشیع ہیں جس کے ذریعے نشر علوم محمد و آل محمد علیہم السلام کے ہمراہ نوجوان نسل کی بنحو احسن تربیت اور مکتب تشیع کے بنیادی عقائد و علوم قرآن و حدیث اور مختلف موضوعات پر مباحث علمی ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے مدارس دینیہ مرکزی حیثیت کے حامل ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد دکن میں دینی درسگاہ بنام "مدرسۃ امیرالمومنینؑ " کا افتتاح عمل میں آیا۔ افتتاحی تقریب کا آغاز قاری و ذاکر معصومینؑ جناب میر حسین علی رضوی نے دلکش و دلنشین تلاوت قرآن مجید سے کیا اس کے بعد جناب شہریار والاجاہی نے اپنی پر درد و پرسوز آواز میں بارگاہ امام حسین علیہ السلام میں سلام و مرثیہ کا نذرانہ پیش کیا۔

بعد اس کے مہمان خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا ڈاکٹر سید نثار حسین حیدر آغا صدر شیعہ مجلس علماء و ذاکرین وہ رکن وقف بورڈ حکومت تلنگانہ نے فصیح و بلیغ و مدبرانہ و مفکرانہ تقریر فرمائی آپ نے کہا:مدارس دینیہ کا قیام یقینا قابل مستحسن عمل ہے اور یہ مدارس دینیہ نہیں بلکہ مراکز تشیع ہیں جس کے ذریعے نشر علوم محمد و آل محمد علیہم السلام کے ہمراہ نوجوان نسل کی بنحو احسن تربیت اور مکتب تشیع کے بنیادی عقائد و علوم قرآن و حدیث اور مختلف موضوعات پر مباحث علمی ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے مدارس دینیہ مرکزی حیثیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مدارس میں علم دین میں صرف کیا گیا ایک گھنٹہ دن بھر کے چوبیس گھنٹوں پر فوقیت و افضلیت رکھتا ہے لہذا والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو دینی مدارس میں تحصیل علم کے لئے بھیجیں تاکہ وہ علوم محمد و آل محمد علیہم السلام سے سیراب ہو کر   اپنی زندگی کو نور علم سے منور و
 مزین کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مدرسہ کا نام"مدرسۃ امیرالمومنینؑ"  نہایت ہی عمدہ اور منفرد ہے جو کہ "مدیر و مؤسس مدرسہ" مولانا مرزا عسکری علی خاں کے افکار کا عکاس ہے کیونکہ یہ لقب صرف اور صرف امیر فصاحت و بلاغت باب العلم باب الحکمہ مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے مخصوص ہے۔اس مدرسہ کے نام سے ہی واضح ہے کہ
اس مدرسہ کی بنیاد ولایت علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر ہے،

آخر میں " مدرسۃ امیرالمومنینؑ " کے مؤسس و مدیر مولانا مرزا عسکری علی خاں  کی خدمات کو سراہتے ہوئے دعاؤں سے نوازا اور حاضرین و سامعین اور کنوینیر جناب سید داؤد رضا باقری اور سب کے حق میں دعا کی۔

بعد ازآں"بورڈ پر بعد از بسم اللہ مدرسہ کا نام "مدرسۃ امیر المومنینؑ" تحریر کیا اور اس انداز یگانہ سے مدرسہ کا" رسمی افتتاح "عمل میں آیا بعدہ دیگر علماء و ذاکرین خطباء نے قلم فرسائی فرماتے ہوئے علم سے متعلق احادیث اور اپنے تاثرات تحریر فرمایا۔

آخر میں مولانا مرزا عسکری علی خاں مدیر و مؤسس مدرسۃ امیرالمومنینؑ نے تمام علماء و خطباء و ذاکرین و معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس افتتاحی تقریب میں علماء و ذاکرین وخطباء و  شعراء و معزز مہمانوں نے شرکت کی اختتام پر شہر حیدرآباد دکن کی نامور و ممتاز  شخصیات جو اب ہمارے درمیان نہ رہیں ان تمام مرحومین کے لئے سورہ فاتحہ کا اہتمام کیا گیا جن میں سلطان العلماء مولانا رضا آقا صاحب قبلہ مرحوم و مغفور مولانا نقی نجفی صاحب قبلہ مرحوم و مغفور آفتاب دکن علامہ اختر زیدی صاحب  مرحوم و مغفور جان عزاء جناب میر صابر علی زوار صاحب مرحوم و مغفور جناب ہادی علی خاں مسلم مرحوم و مغفور جناب علی جان صاحب مرحوم و مغفور کے اسماء شامل ہیں۔

حیدرآباد دکن میں دینی درسگاہ بنام "مدرسۃ امیرالمومنینؑ " کا افتتاح

حیدرآباد دکن میں دینی درسگاہ بنام "مدرسۃ امیرالمومنینؑ " کا افتتاح

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 9 =